• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 174761

    عنوان: قسطوں پر خریداری كا حكم جب كہ قسط لیٹ ہونے كی صورت میں زائد رقم وصول نہ كی جائے؟

    سوال: ہمارے ہاں عموماً گاڑیاں قسطوں پر خریدی جاتی ہیں جو کہ عام قیمت کے اعتبار سے زیادہ مہنگی ہوتی ہیں مثلاً جو گاڑی 40 لاکھ روپے کی ہے۔ وہ گاڑی 50 لاکھ روپئے فروخت کی جاتی ہے ۔ اور ماہانہ قسط طے کی جاتی ہے۔ اور قسط لیٹ ہونے کی صورت میں کوئی اضافی رقم نہیں وصول کی جاتی ۔ کیا جو 10 لاکھ روپئے قیمت سے زائد وصول کئے گئے یہ سود کے ہیں ؟ اورکیا اس قسم کی خرید و فروخت جائز ہے؟

    جواب نمبر: 17476101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 215-152/B=02/1441

    اُدھار خرید و فروخت کا معاملہ کرنے کی صورت میں زیادہ قیمت لینا درست ہے، یہ سود نہیں ہے۔ ہدایہ میں ہے۔ الا تری أنہ یزاد الثمن لاجل الأجل ۔ (ہدایة: ۳/۷۱)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند