• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 174136

    عنوان: شیئر زکی خرید وفروخت کی شرائط

    سوال: حضرت مجھے جاننا تھا کہ میں شیئر مارکیٹ میں ایسی کمپنی کے شیئر س خریدتا ہوں جو سودی کاروبار سے تعلق نہیں رکھتی اور ان کو میرے نام پر ہونے کے بعد بیچتا ہو آج خریدتا ہوں اور ان کو تھوڑے دن بعد یا دوسرے دن نفع ہونے کے بعد بیچتا ہوں اور میں کرتا ہوں میری مرضی ہوتی ہے جب تک چاہتے ہیں جب تک رکھ سکتے اور جب چاہیں بیچ سکتے کیا ایسا کرنا درست ہے؟ اور ضروری باتیں بھی بتلا دے جنہیں دھیان میں رکھا جائے۔

    جواب نمبر: 17413601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:170-138/sn=3/1441

    شیئرز کی خرید وفروخت میں بنیادی طور پر درج ذیل امور کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ (الف) کمپنی مع اثاثہ وجود میں آچکی ہو، اگر ابھی مع اثاثہ وجود میں نہ آئی ہو ؛ بلکہ نقد کی شکل میں ہو تو پھر منافع کے ساتھ اس کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے۔ (ب) کمپنی کا بنیادی کاروبار حرام وناجائز نہ ہو، اگر حرام کاروبار ہوگا مثلا شراب یا سود کا کاروبار کرتی ہو یا فلم انڈسٹری وغیرہ چلاتی ہو تو ایسی کمپنی کے شیئرز خریدنا شرعا جائز نہیں ہے ۔(ج) ڈلیوری کے بعد شیئرز آگے فروخت کرے،اسی طرح خریدنے میں بھی اس امرکوملحوظ رکھے کہ جس سے خرید رہا ہے اس کے حق میں بھی اس کی ڈلیوری ہوچکی ہو ۔(د) اگر کمپنی ضمنی طور پر سود میں بھی ملوث ہو مثلا بینک میں رقم جمع کرکے سو د حاصل کرتی ہو تو اس پر تقریراً یا تحریرا اپنی ناراضگی کا اظہار کرے گو اس کی بات نہ سنی جائے۔ اگرشیئرز خرید کر کمپنی کے واقعی منافع میں حصے دار ہونا مقصود ہو تو یہ بھی دھیان میں رکھنا ضروری ہے کہ حاصل ہونے والے منافع میں سود کا جتنا حصہ شامل ہو اس کا حساب لگا کر صدقہ کردیا جائے۔( تفصیل کے لیے دیکھیں: فتاوی عثمانی3/378 تا 390،ط: کراچی ، امداد الفتاوی3/486، ط: کراچی ، سوال:521)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند