• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 173150

    عنوان: خرید و فروخت میں جو ثمن (قیمت) عقد کے وقت طے ہوتا ہے مشتری کے ذمہ وہی ثمن ادا کرنا لازم ہوتا ہے

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ میرے گھر میں سات بھائی اور د وبہنیں ہیں، اور ماں باپ کا انتقال ہوگیا ہے آج سے پندرہ سال پہلے، سب بھائیوں نے مل کر ان کے پاس جو مکان تھا اس کی قیمت دس لاکھ روپئے مقرر کی تھی، دو بھائیوں نے مل کر یہ گھر خریدلیا تھا اور اس کی ادائیگی چھ مہینوں کے اندر طے پائی تھی جس کے بعد چار سال کے بعد ایک بھائی کو ادائیگی کی مگر ابھی تک انہوں نے گھر کی ادائیگی نہیں کی تین بھائیوں اور دو بہنوں کو، ابھی تک کوئی رقم نہیں دی ہے ، اب اس گھر کی قیمت تقریباً اسی لاکھ روپئے ہیں، اب جو دو بھائی اور ایک بہن رہ گئی ہے جن کو اب تک رقم نہیں ملی تو انہیں رقم آج سے ۲۳ سال پہلے جو گھر کی قیمت تھی اس حساب سے ملے گی یا پھر ابھی کی جو قیمت ہے اسی لاکھ روپئے اس حساب سے ؟ اور جو یہ دوبھائی اور ایک بہن ہے جس کو رقم لینی ہے، یہ تینوں اب اس دنیا میں نہیں رہے، ان کا انتقال ہوچکاہے، تو کیا ورثہ یا بچوں کا حق ہے اس گھر کی رقم پر جو کہ دو بھائیوں کو دینی تھی آج سے ۲۳ سال پہلے ، لیکن ابھی تک انہوں نے دو بھائیوں کو ہی دی ہے ، اب دو بھائی اور ایک بہن ہے اس حصے میں ۔ براہ کرم، اس مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 17315031-Aug-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 50-182/M=03/1441

    خرید و فروخت میں جو ثمن (قیمت) عقد کے وقت طے ہوتا ہے مشتری کے ذمہ وہی ثمن ادا کرنا لازم ہوتا ہے خواہ اس پر کتنے ہی ایام اور سال گزر جائیں؛ اس لئے صورت مسئولہ میں جن دو بھائیوں نے پورا گھر خریدا تھا ان پر اسی ثمن کے اعتبار سے ادائیگی لازم ہے جو تیئس سال پہلے عقد کے وقت طے ہوا تھا، موجودہ قیمت کے اعتبار سے ادائیگی لازم نہیں، مکان خریدنے والے جن دو بھائیوں نے اب تک ثمن (قیمت) ادا نہیں کیا اور ٹال مٹول کرتے رہے یہ انہوں نے غلط کیا، اب ان کو چاہئے کہ جلد از جلد قیمت ادا کرکے اپنا ذمہ فارغ کرلیں۔

    نوٹ: اگر زمین کے عقد کے وقت کوئی اور معاہدہ یا شرط تھی تو دوبارہ سوال لکھ کر ارسال کریں۔

    (۲) چوں کہ بھائی بہن موجود نہیں رہے؛ اس لئے ان کے بچے اور شرعی وارثین حسب شرع مذکورہ رقم کے حقدار ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند