• Social Matters >> Women's Issues

    Question ID: 400179Country: India

    Title:

    ڈاكٹروں كے كہنے سے پانچ مہینے كا حمل ساقط كرانا؟

    Question: میری بیوی پانچ مہینے کے حمل سے ہے، ڈاکٹروں نے فور ڈی سونوگرافی(4d sonography) نکالی ، اس میں پتا چلا کہ بچے کو ڈفر میٹک ہارنیہ (diphermatic hernia) نام کی بیماری ہے، اور ایک پھیپھڑا نہیں ہے، اور دوسرا پھیپڑا چھوٹا ہے ، جس کی وجہ سے بچہ پیدا ہونے کے بعد ایک بڑی سرجری کروانی پڑے گی جس میں خرچ بھی بہت آئے گا اس کے بعد بھی بچہ بچ نہیں پائے گا، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسقاط کرانا چاہئے ، میں کیا کروں ؟ رہنمائی فرمائیں۔

    Answer ID: 400179Posted on: 04-Feb-2021

    Fatwa : 519-371/B=06/1442

     جب حمل ماں کے پیٹ میں ۴/ ماہ کا ہوجاتا ہے اور اس کے جسم کے اعضاء یعنی ہاتھ پاوٴں، آنکھ کان ناک وغیرہ بن جاتے ہیں اور ان میں رُوح ڈال دی جاتی ہے تو اس کے بعد حمل کا اسقاط کرانا زندہ بچے کو مار ڈالنے کے برابر سمجھا جاتا ہے اور کسی زندہ بچہ کا مارڈالنا جائز نہیں۔ اس لئے آپ ڈاکٹر کی مشینوں پر اعتماد نہ کریں بلکہ اللہ پر بھروسہ کریں اور دعا کریں کہ اللہ تعالی صحیح سالم پھیپھڑے والا بچہ عنایت فرمائے۔ مشینوں کی تحقیق بعض دفعہ غلط بھی نکلتی ہے۔

    Darul Ifta,

    Darul Uloom Deoband, India