• Miscellaneous >> Others

    Question ID: 400104Country: India

    Title: إن الزنا قرض فإن أقرضتہ کان الوفاء من أہل بیتک فاعلم  كا مطلب

    Question: (1) میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی مرد شادی سے پہلے یا شادی کے بعد میں زنا کرتاہے کسی دوسری عورت سے تو کیا یہ سچ ہے کہ اس کا قرض اس کے گھروالے ادا کریں گے؟ کیوں کہ گناہ تو اس نے کیا ہے ، کوئی بے گناہ اس کاقرض کیوں ادا کرے ؟اور (2) کیا سچی توبہ کرنے سے یہ معاف ہوجاتاہے ؟ براہ کرم، جواب دیں۔

    Answer ID: 400104Posted on: 13-Dec-2020

    Fatwa : 282-241/M=04/1442

     (۱) امام شافعی رحمہ اللہ کے مقولے میں یہ بات ہے: ․․․․․ إن الزنا قرض فإن أقرضتہ کان الوفاء من أہل بیتک فاعلم ۔ (ترجمہ: بے شک زنا قرض ہے اگر تونے اس کو قرض لیا تو ادائیگی تیرے گھر والوں سے ہوگی، تو اس کو جان لے) لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ گناہ کوئی کرے اور اس کا بدلہ اس کے گھر والے سے لیا جائے گا یا اس کی سزا اس کے گھر والے کو دی جائے گی؛ بلکہ مفہوم یہ ہے کہ پاکدامن رہنا چاہئے، اگر ہم پاکدامن رہیں گے تو ہمارے گھر کی عورتیں پاکدامن رہیں گی یعنی ہماری پاکدامنی کا اثر ہمارے گھر والوں پر پڑے گا اور اگر ہم گناہ میں مبتلا ہوں گے تو ا س کی نحوست سے ہمارے گھر کی عورتیں بھی مبتلاء معصیت ہو سکتی ہیں۔

    (۲) جی ہاں سچی توبہ سے معافی ہو جاتی ہے۔

    Darul Ifta,

    Darul Uloom Deoband, India