• Transactions & Dealings >> Other Transactions

    Question ID: 400137Country: India

    Title:

    قرض كے سلسلے میں شك ہو یا مقدار میں شك ہو تو كیا كرے؟

    Question: اگر کسی سے قرض لیا ہو اور بھول گیا ہو، یاد نہیں رہا ہو؟،لیا ہے یا نہیں ، یا کسی سے لیا یا نہیں لیا، کچھ بھی یاد نہیں ہو تو کیا کرے؟

    Answer ID: 400137Posted on: 01-Feb-2021

    Fatwa:452-332/N=6/1442

     اگر کسی شخص سے قرض لینا یاد ہو؛ لیکن یہ یاد نہ ہو کہ کس شخص سے لیا ہے اور کتنا لیا ہے؟ تو غور وفکر کے ذریعے یاد کرنے کی کوشش کرے اور جس شخص کے بارے میں اور جتنی مقدار کے بارے میں یقین یا غالب گمان ہو، اُسے اُس کا قرض ادا کردے۔ اور اگر قرض کی مقدار کے سلسلے میں یقین یا غالب گمان نہ ہو ؛ البتہ شک کے درجے کا احتمال ہو تو س سے بات کرے پھرجب تصدیق ہوجائے تو قرض ادا کردے۔ اور اگرکسی سے قرض لینے کا محض شک ہو تو غور وفکر کے نتیجے میں جس کے بارے میں خیال ہو، اُس سے بات کرے اور تصدیق کی صورت میں اُس کا قرض ادا کردے اور اگر تصدیق نہ ہوسکے تو احتیاطاً معاف کرالے۔ خلاصہ یہ کہ قرض کا مسئلہ حقوق العباد کی قبیل سے ہے؛ اس لیے اخروی مواخذہ سے بچنے کے لیے جہاں تک ہوسکے احتیاط کی صورت اختیار کرے ۔

    Darul Ifta,

    Darul Uloom Deoband, India