• Social Matters >> Nikah (Marriage)

    Question ID: 400205Country: India

    Title:

    صرف ایك گواہ كی موجودگی میں كیے گئے نكاح كا حكم؟

    Question: میرے شوہر نے دوسری شادی کرلی ہے، صرف ایک گواہ کی موجودگی میں نکاح پڑھا گیا، دوسرے کا گواہ کا صرف نام لیا گیا مگر نکاح پڑھتے وقت وہ سامنے نہیں تھا، خفیہ نکاح کیا گیاہے، نکاح میں کم سے کم دو گواہوں کا سامنے رہنا چاہئے یا صرف گواہ کا نام لینے سے بھی نکاح ہوجائے گا؟ براہ کرم، اس بارے میں بتائیں۔

    Answer ID: 400205Posted on: 05-Feb-2021

    Fatwa : 440-329/D=06/1442

     مجلس نکاح (یعنی جہاں نکاح ہورہا ہے) لڑکے لڑکی یا ان کے وکیل کا موجود رہنا اور دو مسلمان مرد گواہوں کا یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتوں کا موجود رہنا ضروری ہے جو اپنے کانوں سے ایجاب و قبول کے الفاظ سنیں بغیر اس کے نکاح صحیح نہیں ہوگا گواہ کا نام لینا کافی نہیں بلکہ موجود ہونا اور ایجاب و قبول سننا ضروری ہے۔ قال فی الدر: ومن شرائط الایجاب والقبول اتحاد المجلس ۔ (الدر مع الرد: 4/76)

    وشرط حضور ”شاہدین“ أي یشہدان علی العقد ”حرّین“ أو حرّ وحرّتین ”مکلفین سامعین قولہما معا“ً (الدر مع الرد: 4/91)

    Darul Ifta,

    Darul Uloom Deoband, India