• Transactions & Dealings >> Interest & Insurance

    Question ID: 179701Country: India

    Title:

    دین دیال یوجنا اسكیم سے فائدہ اٹھانا؟

    Question: حکومت گوا نے ہیلتھ انشورنس اسکیم شروع کی ہے جس میں سال میں تین سو روپئے دینے ہیں، اور جب ہم بیمار ہوجاتے ہیں تو حکومت ہمیں تین لاکھ تک خرچ دیتی ہے، اگر ہم بیمار نہیں ہوئے تو ہمارے تین سو روپئے نہیں ملیں گے ، کیا یہ حلال ہے یا حرام؟ براہ کرم، جواب دیں۔

    Answer ID: 179701Posted on: 16-Sep-2020

    Fatwa:37-25/L=1/1442

     حکومت گوا نے جو یہ اسکیم شروع کی ہے کہ سال میں ۳۰۰/روپئے جمع کرنا ہے اور بیماری کی صورت میں حکومت تین لاکھ تک خرچ دے گی، یہ شکل سود اور قمار پر مشتمل ہے؛ اس لیے اس اسکیم سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔

    قال اللہ تعالی:وأحل اللہ البیع وحرم الربا الآیة(سورة البقرة:۲۷۵) وعن جابرقال:لعن رسول اللہ ﷺ:آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ہم سواء(مشکاة المصابیح:ص 244) وقال تعالی: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ{ (المائدة:90) و قال تعالی:﴿وَلَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ أی بالحرام، یعنی بالربا، والقمار، والغصب والسرقة(معالم التنزیل ۲: ۵۰) وقال الجصاص فی أحکام القرآن: ولا خلاف بین أہل العلم فی تحریم القمار وأن المخاطرة القمار، قال ابن عباس: إن المخاطرة قماراہ․ (أحکام القرآن ۲: ۱۱ط دار احیاء التراث العربی بیروت) وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:إن اللہ حرم علی أمتی الخمر والمیسر(مسند احمد ۲: ۳۵۱،حدیث نمبر6511) لأن القمار من القمر الذی یزداد تارةً وینقص أخریٰ، وسمی القمار قمارًا؛ لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذہب مالہ إلی صاحبہ، ویجوز أن یستفید مال صاحبہ، وہو حرام بالنص․ (شامی،کتاب الحظر والإباحة،باب الاستبراء،فصل فی البیع ۹:۵۷۷، مطبوعة: مکتبہ زکریا دیوبند)

    Darul Ifta,

    Darul Uloom Deoband, India