• Transactions & Dealings >> Inheritance & Will

    Question ID: 400085Country: India

    Title: پانچ بھائی اور چار بہنوں كے درمیان تقسیم وراثت

    Question: ماں باپ کی وراثت کی تقسیم کرنی ہے، پانچ بھائی اور چار بہنیں ہیں ، تین گھر ہیں، تین بھائیوں کا خود کاگھر ہے اور وہ الگ رہتے ہیں ، دو بھائیوں کا نہیں ہے۔ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

    Answer ID: 400085Posted on: 30-Nov-2020

    Fatwa : 363-275/H=04/1442

     اگر آپ کے دادا، دادی ، نانی میں سے کوئی والدین مرحومین نے اپنی وفات پر نہیں چھوڑے تو جو کچھ بھی بوقت وفات والدین مرحومین اپنی مملوکہ جائیداد و دیگر اشیاء چھوڑیں ان سب کا حکم یہ ہے کہ بعد اداءِ حقوقِ متقدمہ علی المیراث مرحومین کا کل مالِ متروکہ چودہ (۱۴) حصوں پر تقسیم کرکے دو دو (۲-۲) حصے مرحومین کے پانچوں بیٹوں (آپ لوگ پانچ بھائیوں) کو ملیں گے اور ایک ایک حصہ چاروں بیٹیوں (آپ کی بہنوں) کو ملے گا۔ تین بھائیوں کا جو خود کا گھر ہے اُس گھر میں اگر والدین مرحومین کی ملکیت کا کچھ بھی حصہ نہیں بلکہ وہ گھر تینوں بھائیوں نے اپنی ذاتی رقم سے حاصل کیا ہے تو اُس کے مالک وہ تینوں بھائی ہی ہیں ایسی صورت میں اُس مکان پر والدین مرحومین کی وراثت اور ترکہ کا حکم نہ ہوگا۔

    Darul Ifta,

    Darul Uloom Deoband, India