• Miscellaneous >> Halal & Haram

    Question ID: 400010Country: India

    Title:

    سرکاری نوکری میں ٹائپنگ فاسٹ پاس کرنے کے لیے پیسہ دینا

    Question: میرے والد صاحب کی سرکاری نوکری تھی، ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا، جس کے بعد ملازمت تو مجھے مل گئی لیکن ملازمت باقی رہے اس کے لیے ٹائپنگ ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہے، میں نے ٹائپنگ تو سیکھ لی ، لیکن ٹائپنگ ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے جتنی اسپیڈ وہ مانگ رہے ہیں اتنی اسپیڈ میری نہیں ہے،ٹائپنگ ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے وہاں پیسے چلتے ہیں جتنے بھی لوگ لگے ہیں ان میں سے زیادہ تر دے کر پاس ہوئے ہیں، کیا میرا پیسہ دے کر ٹائپنگ ٹیسٹ پاس کرنا جائز ہے؟کیوں کہ اگر میں ٹائپنگ ٹیسٹ پاس نہیں کروں گا تو میری نوکری ختم ہوجائے گی، مجھے نوکر یسے نکال دیا جائے گا ، کیوں کہ نوکری ملتے وقت جو مجھے لیٹر دیا گیا تھا اس میں صاف صاف لکھا تھا کہ اگر آپ ٹائپنگ ٹیسٹ پس نہیں کرتے ہیں تو آپ کی سیوا سماپت کردی جائے گی ، مطلب آپ کو نوکری سے نکال دیا جائے گا اور اگر میں پیسہ دے کر لگ جاؤں گا تو کیا اس نوکر ی سے ملنے والی تنخواہ میرے لیے حرام ہوگی؟

    Answer ID: 400010Posted on: 08-Oct-2020

    Fatwa : 69-51/M=02/1442

     نوکری کو برقرار رکھنے کے لئے جس درجہ ٹائپنگ اسپیڈ مطلوب ہے اس کو سیکھنے اور مطلوبہ معیار کو حاصل کرنے کی پوری کوشش و محنت کریں۔ اہلیت کے بغیر محض پیسے دے کر ٹیسٹ پاس کرانا درست نہیں ہاں اگر مطلوبہ اہلیت حاصل ہوگئی ہے اس کے باوجود آپ سے صرف پیسے اینٹھنے کے لئے اس طرح کی شرط لگائی جارہی ہے یا آپ کی جگہ کسی نااہل کو بڑی رقم کے عوض نوکری دلائی جارہی ہے اور آپ اپنی نوکری بچانے کے لئے پیسے دینے پر مجبور ہیں تو ایسی صورت میں رقم دے کر نوکری بحال رکھنے کی گنجائش ہے، تنخواہ کام کا عوض ہوتی ہے اگر کام پوری دیانتداری کے ساتھ کریں گے تو تنخواہ جائز و حلال ہوگی۔

    Darul Ifta,

    Darul Uloom Deoband, India