• Transactions & Dealings >> Inheritance & Will

    Question ID: 179927Country: India

    Title:

    وارث کے حق میں وصیت کا سوال

    Question: زید کی پہلی بیوی سے دو بیٹے ہیں ، اوردوسری بیوی ے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے دو نوں بڑے بیٹوں کو جو ان کی پہلی بیوی سے ہیں ، صرف الگ الگ دو مکان دیئے تھے، اور اپنے پانچ بیٹیوں کے ساتھ وہ اپنے دوسرکے مکان میں رہتے تھے، اب زید نے وصیت لکھی ہے کہ میرنے کے بعد میرے پانچ بیٹیوں اور دو بیٹیوں کو جو میری دوسری بیوی سے ہیں، اس مکان میں حصہ ملے گا جس میں میں رہتاہوں، اور میرے دو بڑے بیٹیوں کو میری میری پہلی بیوی سے ہیں، اس مکان میں کوئی حصہ نہیں ملے گا، کیوں کہ میں نے ان کو الگ الگ مکان دیدیاہے، 2011ء میں ان کا انتقال ہوگیا، سوال یہ ہے کہ کیا اس مکان میں جس میں زید رہتا تھا ان کے دو نوں بڑے بیٹیوں کو کوئی حصہ ملے گا؟ نیز بتائیں کہ پروپرٹی کی تقسیم کیسے کی جائے گی؟

    Answer ID: 179927

    Bismillah hir-Rahman nir-Rahim !

    Fatwa:124-52T/sn=2/3/1442

     (الف)اگر زید نے پہلی بیوی کے دونوں بیٹوں کو مکان ہبہ کردیا تھا، نیز ہر ایک بیٹے کو اس کے حصے پر قابض بنا کر خو د دستبردار بھی ہوگیا تھا تو صورت مسئولہ میں وہ دونوں بیٹے اس مکان کے مالک ہوگئے تھے ، وہ زید مرحوم کے ترکہ میں شمار نہ ہوں گے ،رہا دوسرا مکان تو سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرتے دم تک زید کی ملکیت میں تھا ؛ لہذا یہ ان کا ترکہ بنے گا، اس میں پہلی بیوی کے بچوں سمیت اس کے دیگر تمام ورثا کا حق ہے ، زید(باپ )کی وصیت کردینے کی وجہ سے دوسری بیوی کی اولاد تنہا اس مکان کی حقدار نہ ہوگی الا یہ کہ پہلی بیوی کی اولاد اس پر راضی ہوں ؛ کیونکہ شریعت نے ورثا کے لیے میراث رکھی ہے ، وصیت نہیں؛ اسی لئے مورث کی وصیت وارث کے حق میں کالعدم ہوتی ہے ؛ ہاں اگر دیگر ورثا تنفیذِ وصیت پر راضی ہوں تو پھر حسب وصیت موصی لہ کو مل جائے گا ۔

    عن عمرو بن دینار، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لا تجوز لوارث وصیة إلا أن یجیزہا الورثة> ^سنن سعید بن منصور 1/ 149،باب لا وصیة لوارث،رقم426)

    (ولا لوارثہ وقاتلہ مباشرة) لا تسبیبا کما مر (إلا بإجازة ورثتہ) لقولہ - علیہ الصلاة والسلام - لا وصیة لوارث إلا أن یجیزہا الورثة یعنی عند وجود وارث آخر کما یفیدہ آخر الحدیث وسنحققہ (وہم کبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغیر ومجنون وإجازة المریض کابتداء وصیة ولو أجاز البعض ورد البعض جاز علی المجیز بقدر حصتہ....... (قولہ جاز علی المجیز إلخ) بأن یقدر فی حق المجیز کأن کلہم أجازوا وفی حق غیرہ کأن کلہم لم یجیزوا وقدمنا بیانہ عن المقدسی․ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 10/ 346، کتاب الوصایا،مطبوعة: مکتبة زکریا، دیوبند)

    Allah (Subhana Wa Ta'ala) knows Best

    Darul Ifta,

    Darul Uloom Deoband, India