• Miscellaneous >> Halal & Haram

    Question ID: 57611Country: India

    Title: میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے کیوسک (kiosk) ذیلی /چھوٹی برانچ چلاتاہوں۔ اس میں مجھے بینک کی طرف سے کوئی تنخواہ نہیں ملتی ، لیکن کسی کا بینک میں اکاؤنٹ کھولنے ، اس کے کھاتے میں پیسے جمع کرنے اور نکالنے پر مجھے کمیشن ملتاہے، یہ کمیشن جمع کرنے والے یانکالنے والے سے ہم سیدھے ہی لیتے ہیں، کیا یہ رقم ہمارے لیے جائز ہے؟

    Question: میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے کیوسک (kiosk) ذیلی /چھوٹی برانچ چلاتاہوں۔ اس میں مجھے بینک کی طرف سے کوئی تنخواہ نہیں ملتی ، لیکن کسی کا بینک میں اکاؤنٹ کھولنے ، اس کے کھاتے میں پیسے جمع کرنے اور نکالنے پر مجھے کمیشن ملتاہے، یہ کمیشن جمع کرنے والے یانکالنے والے سے ہم سیدھے ہی لیتے ہیں، کیا یہ رقم ہمارے لیے جائز ہے؟

    Answer ID: 57611

    Bismillah hir-Rahman nir-Rahim !

    Fatwa ID: 464-482/N=7/1436-U بینک میں اکاوٴنٹ کھلوانے والوں میں بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو محض سود حاصل کرنے کے لیے اکاوٴنٹ کھلواتے ہیں جیسے : وہ لوگ جو ایف ڈی کراتے ہیں؛ بلکہ عوام میں اکثریت ایسے ہی لوگوں کی ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ ان کا اس مقصد سے بینک میں اکاوٴنٹ کھلوانا جائز نہیں اور جو لوگ اس میں ان کا تعاون کرتے ہیں وہ بھی ناجائز کام کرنے والے اور گنہ گار ہوتے ہیں، پس ایسے لوگوں کا اکاوٴنٹ کھلواکر یا ان کے پیسے جمع کراکے ان سے یا سرکار سے محنتانہ لینا جائز نہ ہوگا؛ کیوں کہ یہ سودی کاموں میں تعاون کی شکل ہے اور بینک کی اس ملازمت کی طرح ہے جس میں سودی لین دین سے متعلق بھی کوئی کام ہو اس لیے آپ جو اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ذیلی برانچ چلارہے ہیں یہ شرعاً جائز نہیں ہے۔ قال اللہ تعالی: وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (سورہٴ مائدہ، آیت:۲)

    Allah (Subhana Wa Ta'ala) knows Best

    Darul Ifta,

    Darul Uloom Deoband, India