• Miscellaneous >> Halal & Haram

    Question ID: 56936Country: MY

    Title: میں نے یہاں ملیشیا میں دیکھا ہے کہ ہوٹلوں میں برگرمیں حلال بیکن بیچتے ہیں؟ کہتے ہیں کہ یہ حلال ہے اور پھر ہوٹل میں خنزیر کا گوشت استعمال نہیں ہوتاہے، اورمیں نے یہ بھی سناہے کہ بیکن خنزیر کی چربی سے بنتاہے، اس لیے میں بہت تذبذب میں ہوں کہ بیکن حلال ہے اگر اس کو چکن یا ٹرکی کے گوشت سے بنایا جائے؟شکریہ

    Question: میں نے یہاں ملیشیا میں دیکھا ہے کہ ہوٹلوں میں برگرمیں حلال بیکن بیچتے ہیں؟ کہتے ہیں کہ یہ حلال ہے اور پھر ہوٹل میں خنزیر کا گوشت استعمال نہیں ہوتاہے، اورمیں نے یہ بھی سناہے کہ بیکن خنزیر کی چربی سے بنتاہے، اس لیے میں بہت تذبذب میں ہوں کہ بیکن حلال ہے اگر اس کو چکن یا ٹرکی کے گوشت سے بنایا جائے؟شکریہ

    Answer ID: 56936

    Bismillah hir-Rahman nir-Rahim !

    Fatwa ID: 169-135/Sn=3-1436-U ”بیکن“ تو عموما خنزیر کے گوشت سے ہی تیار کیا جاتا ہے لیکن تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ چکن یا دیگر حلال جانوروں کے گوشت سے بھی تیار کیا جاسکتا ہے، اس لیے صورت مسئولہ میں اگر کوئی مسلمان یہ کہے کہ یہ بیکن حلال جانور کے گوشت سے تیار کردہ ہے تو اسے استعمال کرنے کی گنجائش ہے، لیکن اگر کوئی غیرمسلم شخص یہ کہے کہ یہ بیکن حلال ہے تو اس خبر کی بنیاد پر اسکا کھانا جائز نہ ہوگا، کیوں کہ حلت وحرمت کے سلسلے میں غیرمسلم کا قول شرعاً معتبر نہیں ہے، ہاں اگر کوئی غیرمسلم یہ بتلائے کہ یہ گوشت ہم مسلمان قصائیوں سے خریدکر لاتے ہیں جو شرعی طریقہ پر جانور ذبح کرتے ہیں اور آپ کا دل اس بات پر مطمئن ہوجائے تو اس صورت میں اس گوشت کو استعمال کرنے کی گنجائش ہے کیونکہ یہ خبر اصلا معاملات سے متعلق ہے جس میں غیرمسلم کا قول معتبر ہوتا ہے اگرچہ اس میں ضمنا حلت وحرمت بھی ہے: ففي الہندیة: ولا یقبل قول الکافرین في الدیانات إلا اذا کان قبول الکافر في المعاملات یتضمن قبولہ في الدیانات فحینئذ تدخل الدیانات في ضمن المعاملات․ (الفتاوی الہندیة: ۵/۳۰۸، الباب الأول فيالعمل بخبر الواحد) وفي الدر المختار: ویقبل قول کافر ولو مجوسیا قال اشتریت اللحم من کتابي فیحل أو قال اشتریتہ من مجوسي فیحرم (الدر مع الرد ۹/ ۴۹۷۔ زکریا دیوبند) لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اکثر یورپی ممالک سے گوشت برآمد کیا جاتا ہے جس کے شرعی طریقے پر مذبوح ہونے سے متعلق بہت کچھ شکوک وشبہات ہیں نیز اس گوشت پر لکھی ہوئی اس طرح کی عبارت کہ ”یہ حلال ہے“ ، ”یہ شرعی طریقے پر ذبح کردہ ہے“ پورے طور پر قابل اعتبار بھی نہیں ہوتی اس لیے بہرحال احتیاط اولیٰ اور بہتر ہے، حدیث شریف میں ہے ”جس نے شبہ والی چیز کو بھی ترک کردیا اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچالیا“ (مسلم شریف)

    Allah (Subhana Wa Ta'ala) knows Best

    Darul Ifta,

    Darul Uloom Deoband, India