• Social Matters >> Education & Upbringing

    Question ID: 57159Country: MW

    Title: مدرسہ میں امتحان کا نظام

    Question: میں یہ معلوم کرنا چاہتاہوں کہ ایک مدرسہ میں امتحان کا نظام اس طرح ہو کہ ایک درجہ کے طلبہ کا امتحان مختلف اساتذہ لیں تو یقینی طورپر ہر استاذ کی طرف سے الگ الگ نمبر ہوگا تو کیا سب کے نمبرات کو ملا کر پوزیشن دینا ٹھیک ہے؟جب کہ ہر طالب علم کا امتحان ایک استاذ نے نہ لیا ہو؟ اگر مثال کے طورپر نامناسب طریقے سے امتحان لیا گیااور انتظامیہ اسے قبول کرلے تو کیا طالب علم کو یہ حق ہے کہ وہ نتیجہ کو کالعد م مانے اور اس میں ترمیم کرنے کی مانگ کرلے ؟کیا اس کواہانت سمجھا جائے گا؟اگر پورا نظام ہی غیر مناسب /نادرست ہو تو کیا حکم ہوگا؟

    Answer ID: 57159Posted on: Aug 30, 2020

    Bismillah hir-Rahman nir-Rahim !

    Fatwa ID: 287-289/L=3/1436-U (۱) (۲) یہ بھی امتحان لینے کا ایک رائج طریقہ ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، اسکا تعلق انتظام سے ہے یہ شرعی چیز نہیں ہے؛ البتہ ہرممتحن پر اپنے اعتبار سے طالب علم کی لیاقت کے مطابق نمبر دینا ضروری ہے، ممتحن کا مستحق کو کم اور غیر مستحق کو زیادہ نمبر دینا خیانت ہے، اگر امتحان نامناسب طور پر ہواہو اور انتظامیہ بھی اسے قبول کرلے تو طالب علم کو حدود میں رہتے ہوئے نتیجہ کو کالعدم ماننے اوراس میں ترمیم کرنے کی مانگ کرنا درست ہوگا، یہ اہانت میں داخل نہ ہوگا بشرطیکہ حدود کی رعایت اساتذہ کا احترام ملحوظِ خاطر ہو، اور اس میں کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو، اوراگر ترمیم کا مطالبہ کرنے میں فتنے کا اندیشہ ہو یا قوی امید ہو کہ اس مطالبہ کا کوئی اثر نہ ہوگا تو صبر سے کام لینا اور خاموش رہنا ہی بہتر ہوگا، ایسے وقت میں جذباتی ہوجانا مضر ثابت ہوسکتا ہے۔

    Allah (Subhana Wa Ta'ala) knows Best

    Darul Ifta,

    Darul Uloom Deoband, India