عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 169124

میرا ایک مدرسہ ہے اس میں جو طلبہ پڑھتے ہیں وہ اکثر مستحق زکاة ہیں اور مدرسے کے اخراجات زکاة کے مال سے ہی چلتے ہیں تو پوچھنا یہ ہے کہ اگر ہم مدرسے کی کچھ ماہانہ فیس مقرر کردیں اور پھر ہر مہینے مقررہ فیس کی رقم زکاة کی رقم میں سے ہر طالب علم کو دیں اور ان سے مدرسے کی فیس کے طورپر وہ رقم مدرسے میں جمع کرائی جائے تو اب یہ جو رقم مدرسے میں بطور فیس آئی ہے ، اس کو مدرسے کا اہتمام جیسے چاہئے استعمال کرسکتاہے یا ابھی بھی وہ زکاة کا مال ہوگا؟

Published on: Mar 7, 2019

جواب # 169124

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:615-478/sn=6/1440



 مذکور فی السوال طریقہ اختیار کرنے کے بعد وہ مال مالِ زکات نہ رہے گا، فیس کی بابت وصول شدہ رقم طلبہ سے متعلق جملہ ضروریات(مثلا اساتذہ کی تنخواہوں، پانی، بجلی اور صفائی وغیرہ) میں خرچ کرنا جائز ہوگا۔ واضح رہے کہ زکات کی رقم فیس ادا کرنے کے لئے انھیں طلبہ کو دی جا سکتی ہے جو صاحب نصاب نہ ہوں نیز سید نہ ہوں، اگر طلبہ بالغ ہیں تب تو صاحب نصاب ہونے میں صرف ان کی ملکیت کے مال اعتبار ہوگا، اگر نابالغ ہیں تو ان کے والد کا بھی مستحق زکات ہونا ضروری ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات