عبادات - زکاة و صدقات

Pakistan

سوال # 168226

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارہ میں کہ ایک شادی شدہ شخص کی کینیڈین نیشنلٹی والی پاکستانی مسلمان بیوی تھی۔ پاکستان میں رہتے تھے ۔ شوہر اولاد کا خواہشمند تھا لیکن بیوی ابھی اولاد نہیں چاہتی تھی۔ اختلاف کے نتیجہ میں بیوی واپس کینیڈہ چلی گئی اور شوہر تعلیم حاصل کرنے امریکہ چلا گیا۔ امریکہ قیام کے دوران بیوی شوہر کے پاس رہنے آئی اور امید سے یو گئی۔ اور پھر واپس کینیڈہ چلی گئی۔ شوہر جو کہ سٹوڈنٹ ویزہ پر امریکہ میں تھا وہ بھی کینیڈہ میِں بیوی کے پاس چلا گیا۔ ایک بیٹا ہوا، کچھ عرصہ بعد دونوں کی آپس میں لڑائی ہوئی اور بیوی نے شوہر کو گھر سے نکال دیا۔
اب شوہر کینیڈہ میں ہے اور کینیڈا کا ورک ویزہ نہ ہونے کی بنا پر کام نہیں کر سکتا۔ عدالت میں بچے سے ملاقات کے حق کے لئے کیس کر رکھا یے ۔ شہریت حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے جس میں ابھی تقریبا دو سال لگیں گے ۔ کام نہ کر سکنے کے باعث انتہائی کسمپرسی کی حالت میں رہ رہا ہے ۔ پاکستان میں اس کا ایک دوست اس کی مالی مدد کرنا چاہتا ہے اور پوچھ رہا ہے کہ کیا ان حالات میں اس شخص کو زکواة کی مد میں تقریبا ایک لاکھ پاکستانی روپے بھیج سکتا ہے ؟

Published on: Jan 30, 2019

جواب # 168226

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 560-496/H=05/1440



کسمپرسی کی حالت کے ساتھ ساتھ اگر وہ دوست مصرف و مستحق زکات بھی ہے تو اس کو زکات دے سکتے ہیں البتہ یکمشت اتنی زکات دینا کہ وہ دوست صاحب نصاب ہو جائے مکروہ ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات