عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 164276

میں نے ۲۰۱۵ میں عبدالرحمن کو کچھ رقم دی جس کی گزشتہ زکوة ادا کی گئی تھی۔اس نیت سے کے وہ مجھے زمین دیں۔اس زمین کو میں اپنے بچوں کی تعلیمی خرچ کے لیے خرید رہا تھا کہ قیمت بڑھنے پر بیچ کر استعمال کر یں ۔2016 کے ختم ہونے تک میں نے اسے کچھ اور رقم دیں دی۔پھر 2017 کے ختم ہونے تک کچھ رقم دیں دی۔اس کے پاس جمع شدہ رقم پر دو سال (2016 اور2017 )گزر گئے ۔ پر اس نے ہمیں کوئی زمین نہیں دی۔ اب 2017 کے ختم ہونے پر ہم نے اس سے رقم واپس مانگی۔پر اس نے نہیں دی۔اس طرح ایک اور سال گزر گیا 2018 رمضان۔اب وہ شخص ہمیں زمین دے رہا ہے ۔ زمین خریدنے کی اب کوئی نیت نہ رہی کیونکہ معاملہ بگڑ چکا ہے اس شخص نے کئی جھوٹ بول دیئے ۔ اس سے رقم نکل جائے بس یہیں نیت ہے ۔ زمین کے بارے میں کوئی نیت نہیں کیا ہو۔ زمین کے مل جانے پر عبدالرحمن کے پاس رقم جو کہ تین سال رکھی تھی کیا اسکی زکات ادا کرنی چاہیے ؟ اس شخص نے وہ رقم اپنے لئے استعمال کرلی تھی۔ جواب عنایت فرمائے ۔ نوٹ = میرے پاس ان پیسوں کے علاوہ اور کوئی رقم نہیں ہی۔ میں کرایہ کے گھر میں رہتا ہو، اہلیہ کے پاس کوئی زیور نہیں ہے ۔

Published on: Sep 11, 2018

جواب # 164276

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1332-1267/M=12/1439



صورت مسئولہ میں آپ نے عبد الرحمن کو جو رقم دی تھی اگر وہ بقدر نصاب ہے تو رقم ملنے پر گذشتہ تینوں سالوں کی زکاة کی ادائیگی لازم ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات