عبادات - زکاة و صدقات

Pakistan

سوال # 164073

حضرت میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ میں سرکاری ملازم ہوں اور ایک سرکاری گھر میں بمع اپنی فیملی کے رہائش پذیر ہوں۔ میں نے گذ شتہ سال اپنا ایک پلاٹ فروخت کیا جو کہ میں نے سن ۲۰۱۰ میں اپنی بیرون ملک تعیناتی سے واپسی پر خریدا تھآاور اس وقت نیت یہ کی تھی کہ جب اس کی قیمت اچھی ہو جائے گی تو اس کو فروخت کر کہ اپنے لیے ذاتی گھر خریدوں گا ۔ جب میں نے یہ پلاٹ منافع کے ساتھ فروخت کر دیا اور اپنا ذاتی گھر کے لیے کو شش شروع کر دی لیکن ہماری پسند کی جگہیں کافی مہنگی تھیں جو کہ اس فروخت کردہ پلاٹ سے حاصل شدہ رقم میں خریدنی ممکن نہ تھیں لھذا فیصلہ یہ کیا کہ اس رقم سے فی الحال ایسی جگہ پلاٹس لے لوں جہاں اس وقت قیمت نسبتاً کم ہے اور آئندہ آنے والے وقت میں قیمت بڑھنے کا چانس ہے ، میری اس وقت بھی نیت یہی ہے کہ جب ان پلاٹس کی اچھی قیمت ملے گی تو میں ان کو فروخت کر کے اپنا ذاتی گھر خریدوں گا یعنی کسی بھی صورت میں ان پلاٹس سے کوئی کاروباری مفاد وابستہ نہیں ہے بلکہ ان کو فروخت کر کے اپنا ایک ذاتی گھر رہائش کے لئے لینے کی نیت ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مجھے ان پلاٹس کی زکوة ادا کرنی ہے اور اگر کرنی ہے تو ان کی موجودہ مارکیٹ ریٹ کے حساب سے ادا کروں گا؟ میں زکوة یکم رمضان کو نکالتا ہوں ۔ اور یہ پلاٹس میں نے گذشتہ سال رمضان کے مہینہ سے پہلے لیے تھے لہذا اگزکوة کی صورت ہوئی تو گذشتہ سال کی کیا صورت ہوگی؟

Published on: Sep 4, 2018

جواب # 164073

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1295-1182/M=12/1439



پلاٹ خریدنے کے وقت آپ کی نیت چونکہ اس کو فروخت کرنے کی تھی اور اب بھی یہی نیت ہے کہ اس کو بیچ کر گھر خریدنا ہے تو اس پلاٹ کی مالیت پر موجودہ مارکیٹ ریٹ کے حساب سے زکاة واجب ہے، آپ رمضان میں زکاة نکالتے ہیں اور گذشتہ رمضان سے پہلے آپ نے پلاٹ لیا ہے تو اگر گذشتہ رمضان میں بھی آپ صاحب نصاب تھے تو اس نصاب میں پلاٹ کی مالیت کو بھی شامل کرکے سب کی زکاة نکال دیں اور امسال رمضان میں بھی آپ صاحب نصاب تھے اور پلاٹ آپ کی ملکیت میں موجود تھا تو امسال کی زکاة الگ حساب کرکے نکال دیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات