عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 163065

کیا فرماتے ہیں مفتی کرام درجہ ذیل کے بارے میں میرے محلے میں ایک شخص ہے جو کہتا پھرتا ہے کہ میں نے اتنی زکواة نکالی میں نے فلاں کو دی کیا زکواة نکال کر سب کو بتانا جائز ہے یا نہیں اس کا وہ شخص گنہگار ہوگا یا نہیں کیا اس کی زکواة ادا ہوگی یا نہیں ۔براہ کرم، وضاحت فرمائیں۔

Published on: Jul 9, 2018

جواب # 163065

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1136-137T/D=10/1439



ریا یعنی لوگوں کو دکھلانے کے لیے کوئی نیک عمل کرنا اور نمود یعنی شہرت اور نام آوری چاہنا یہ دونوں مذموم صفت ہیں ان کی وجہ سے عمل کا ثواب اکارت ہوجاتا ہے لہٰذا شخص مذکور کا نام آوری یا فخر ومباہات کے طور پر اپنی زکاة کا چرچا کرنا بہت بری بات ہے اور جن لوگوں کو زکاة دی ہو ان کے ناموں کا چرچا کرنا بھی برا ہے ایسی باتوں سے پرہیز لازم ہے ورنہ اس کا ثواب ختم ہوجائے گا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا لا تُبطِلوا أَعمالَکم بالمَنّ والأذَی یعنی خرچ کرنے کے بعد احسان جتلانا یا ایذا رسانی کا کوئی جملہ کہنا اس سے عمل کا ثواب ضائع ہوجاتا ہے پس تم لوگ ایسا کرکے اپنا عمل برباد نہ کرو۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات