عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 162445

کیا صاحب مال والد اور والدہ کے بالغ طالب علم کو تعلیم کے لے ء زکاة کی رقم دے سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر والد کی ماہانہ آمدنی6000رورپیہ ہے اور اس کے گھر کاخرچ نہیں چلتا ہے تو کبا نا بالغ بچے کو بھی تعلیم کے لیے زکاة کی رقم د ی جا سکتی ہے ؟

Published on: Jul 2, 2018

جواب # 162445

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1048-915/D=10/1439



مالدار مرد یا عورت کے بالغ لڑکے لڑکی کو جو خود غریب ہے زکاة کی رقم دی جاسکتی ہے۔



اور اگر والد کی تنخواہ میں گھر کا خرچ نہیں چلتا اور والد کے پاس سونا چاندی نقد وغیرہ بھی جمع نہیں ہے جس کی وجہ سے والد غریب ہے تو غریب شخص کے نابالغ بچہ کو زکاة کی رقم دی جاسکتی ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات