عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 161917

میں ایک ملازم ہوں، اللہ کے فضل سے زندگی گذر رہی ہے ۔ ضروری احوال یہ ہے کہ میری اہلیہ کے پاس 44 گرام سونا اور 200 گرام چاندی ہے اور اس کے پاس 6051 روپئے ہیں جو مہر کے ہیں جس پہ ایک سال گذر چکا ہے ۔ اس علاوہ اور کوئی نقدی مال نہیں۔ ماہواری تنخواہ ملتی ہے اور خرچ ہو جاتا ہے ۔
سوال نمبر1۔ یہ مال نصاب کو پہنچتا ہے یا نہیں؟
سوال نمبر2۔ اگر پہنچتا ہے تو بیوی پر زکاة واجب ہوگی یا شوہر پر ؟
سوال نمبر3۔ کیا قربانی بھی واجب ہوگی ان پہ؟

Published on: Jun 11, 2018

جواب # 161917

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1011-864/N=9/1439



(۱): جی ہاں! آپ کی اہلیہ کی ملکیت میں جو ۴۴/ گرام سونا، ۲۰۰/ گرام چاندی اور(چھ ہزار، اکیاون روپے) کرنسی ہے، اگر وہ قرضے میں گھرا ہوا نہیں ہے تو بلا شبہ نصاب زکوة کے بہ قدر ہے۔



(۲): بیوی کے مال کی زکوة خود بیوی پر واجب ہوگی، شوہر پر نہیں؛ البتہ اگر شوہر اپنی مرضی وخوشی سے بیوی کی اجازت سے اس کے مال کی زکوة اپنی جیب سے ادا کردے تو زکوة ادا ہوجائے گی۔



(۳): جی ہاں! اگر آپ کی بیوی قربانی کے موقعہ پر بھی صاحب نصاب رہتی ہے تو اس پر قربانی بھی واجب ہوگی۔



اور اگر شوہر بھی اپنی مختلف املاک وغیرہ کی وجہ سے زکوة یا قربانی کے نصاب کا مالک ہو تو حسب شرائط اس پر بھی اس کے مال کی زکوة اور ایام قربانی میں قربانی واجب ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات