عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 161823

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں ایک گاؤں میں ایک مکتب ہے جہاں کچھ لوگ دینی خدمات انجام دے رہے ہیں مگر اب مدرسہ چلانے کا ارادہ ہے تو اس جگہ مدرسہ کیلئے زکوٰة دے سکتے ہیں؟ جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔

Published on: May 30, 2018

جواب # 161823

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:991-851/N=9/1439



جب مکتب، باقاعدہ مدرسہ میں تبدیل ہوجائے اور مدرسہ میں غریب ونادار بیرونی طلبہ آجائیں ، جن کا قیام وطعام منجانب مدرسہ ہو تو ذمہ داران مدرسہ مستحق زکوة طلبہ کے لیے زکوة، فطرہ اور دیگر صدقات واجبہ وصول کریں، دار الاقامہ کا نظام شروع ہونے سے پہلے زکوة، فطرہ وغیرہ وصول کرنے کی ضرورت نہیں۔



قال اللہ تعالی: إنما الصدقت للفقراء والمساکین الآیة (سورة التوبة: ۶۰)، ولا إلی غني یملک قدر نصاب فارغ عن حاجتہ الأصلیة من أي مال کان الخ،……ولا إلی بنی ھاشم الخ۲ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب المصرف، ۳: ۲۹۵-۲۹۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، یصرف المزکي إلی کلھم أو إلی بعضھم،…… ویشترط أن یکون الصرف تملیکا، …،لا یصرف إلی بناء نحو مسجد (المصدر السابق،، ص:۲۹۱)، قولہ:”نحو مسجد“:کبناء القناطر والسقایات وإصلاح الطرقات وکري الأنھار والحج والجھاد وکل ما لا تملیک فیہ۔ زیلعي (رد المحتار)، ومثلہ في مجمع الأنھر (کتاب الزکاة، ۱:۳۲۷،۳۲۸، ط:دار الکتب العلمیة، بیروت)، حیث قال:ولاتدفع الزکوة لبناء مسجد؛لأن التملیک شرط فیھا ولم یوجد، وکذا بناء القناطیر وإصلاح الطرقات وکري الأنھار والحج وکل ما لا تملیک فیہ اھ ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات