عبادات - زکاة و صدقات

Pakistan

سوال # 161804

مجھے آفس کی طرف سے جی-پی فنڈ کی مد میں تقریبأ دس لاکھ روپے ملے اور اس کی کٹوتی اس طرح ہوتی ہے کہ ہر ماہ میری تنخواہ سے دس ہزار روپے کاٹ لیے جاتے ہیں، 13 شوال کو مجہے رقم ملے ہوئے پورا ایک سال ہوجائے گا اس سلسلے میں چند سوالات ہیں، برائے مہربانی جواب ارسال فرمائیں۔
(۱) میرے پاس اس مال کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں جس پر زکوة فرض ہو تو کیا مجھ پر زکوہ فرض ہوگی؟
(۲) میں اگر زکوة رمضان میں دینا چاہوں تو کس طرح دوں؟
(۳) یہ رقم میں نے کاروبار پر لگادی تو کیا اس کے منافع پر زکوة ہوگی (میرے پاس اس وقت تقریبا ۳ لاکہ روپے موجود ہیں)

Published on: May 30, 2018

جواب # 161804

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:980-849/N=9/1439



(۱): اگر آپ جی پی فنڈ کی رقم ملنے سے پہلے صاحب نصاب نہیں تھے ، آپ اس رقم کے ذریعہ ہی صاحب نصاب ہوئے ہیں تو جب اس رقم کی ملکیت پر (چاند کے حساب سے) سال مکمل ہوگا تو آپ پر اس کی زکوة واجب ہوگی۔



(۲): اگر آپ رمضان میں زکوة دینا چاہیں، دے سکتے ہیں؛ البتہ جتنی زکوة دیں، وہ لکھ لیں اور جب ۱۳/ شوال کو سال مکمل ہو تو پوری رقم کا حساب لگائیں، اگر کچھ زکوة رہ گئی ہو تو وہ بھی ادا کردیں۔



(۳): آپ نے اس رقم کا جو حصہ کاروبار میں لگادیا ہے، سال مکمل ہونے پر اصل رقم اور اس کے منافع سب پر زکوة واجب ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات