عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 161575

میں اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہوں اور نوکری کی وجہ سے دوسرے شہر میں بیوی کے ساتھ رہتاہوں۔ میں اور میری بیوی دونوں مل کر کماتے ہیں مگر اتنا ہی کما پاتے ہیں کہ خود کا خرچ ہی بہت مشکل سے چل پاتا ہے۔ میرے گھر کی بھی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ میری بیوی کو شادی کے وقت جو زیور ملے تھے اس وجہ سے وہ صاحب نصاب ہے اور ہر سال وہ زکات نکالتی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ میری ماں کی آنکھ کا آپریشن ہونا ہے جس کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے، تو کیا یہ مناسب ہے کہ میری بیوی کے زکات کے پیسوں سے میری ماں کا آپریشن کرا دیا جائے؟ کیا ایسا کرنا جائز ہوگا؟

Published on: May 10, 2018

جواب # 161575

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1133-929/L=8/1439



اگر آپ کی بیوی اپنے زکوٰة کے پیسے آپ کی والدہ کو دیدیں اور آپ کی والدہ مصرفِ زکوٰة ہوں تواس کی اجازت ہے ،زکوٰة میں چونکہ تملیک ضروری ہے ؛اس لیے اگرآپ کی اہلیہ براہ راست خود یا آپ کے واسطے سے آپریشن کا خرچ ڈاکٹرکودیدیتی ہیں تو اس سے زکوة کی ادائیگی نہ ہوگی،زکوة کی ادائیگی کے لیے والدہ کو رقم دینا یا کم ازکم والدہ کی اجازت سے رقم ڈاکٹر کو دینا ضروری ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات