عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 158710

براہ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ مستحقین کے لیے زکوٰۃ کی شکل میں جمع کیا گیا مال ںعد ازتملیک صرف اسلامی تعلیم کے فروغ کے لئے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے یا کسی اور مصرف میں بھی لایا جا سکتا ہے؟

Published on: Feb 11, 2018

جواب # 158710

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:554-495/M=5/1439



زکاة کا مصرف، غرباء اور فقراء ہیں لقولہ تعالی: إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاکِینِ الخ اور ادائے زکاة کے لیے تملیک فقیر شرط ہے یعنی زکاة کی رقم مستحق زکاة کو دے کر کلی طور پر مالک بنادیا جائے پھر اسے اختیار ہے چاہے وہ جس مصرف میں خرچ کرے، رسمی حیلہٴ تملیک مفید حلت نہیں، آپ کے سوال میں یہ واضح نہیں کہ مستحقین سے مراد طلبہ مدارس دینیہ ہیں یا کوئی اور لوگ؟ اور تملیک کی کیا صورت مراد ہے؟



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات