عبادات - زکاة و صدقات

Pakistan

سوال # 156338

جناب مفتی صاحب، ایک سوال یہ معلوم کرنا ہے کہ میں یکم شعبان 1437 ہجری کو صاحب نصاب بنااور یکم شعبان 1438 کو ہجری کو میں نے جب دوبارہ سال گزرنے پر حساب کیا تو میرے پاس نصاب سے کم مالیت تھی یعنی اب میں صاحب نصاب نہیں رہا۔ لیکن 7 شعبان 1438 ہجری کو میرے پاس کچھ رقم اتنی آگئی کہ وہ پہلی رقم کے ساتھ ملا کر نصاب تک پہنچ گئی۔ اب میرے لئے کیاحکم ہے ؟ میں یکم شعبان 1439 ہجری کو حساب کرکے دیکھوں کہ اس وقت اگر صاحب نصاب ہواتوزکوة دے دوں ورنہ نہیں یا7 شعبان 1439 ہجری کو حساب کرکے دیکھوں کہ صاحب نصاب ہواتوزکوٰہ دے ددوں ورنہ نہیں؟ اس سلسلہ میں رہنمائی فرمائیں کہ زکوٰة کی تاریخ اب بدل جائے گی یاوہی یکم شعبان ہی رہے گی، ہمیشہ کے لئے ؟

Published on: Jan 2, 2018

جواب # 156338

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:278-355/B=4/1439



جو کچھ آپ نے تحریر فرمایا ہے اس حساب سے آپ کے اوپر زکاة واجب نہیں، اگر احتیاطاً آپ ۷/ شعبان کو ہی اپنے کل مال کی زکاة نکال دیں تو یہ بھی جائز ہے۔ اب آئندہ آپ کا سال ۷/ شعبان سے اگلے ۷/ شعبان تک شمار ہوگا۔



--------------------------



جواب صحیح ہے البتہ یہ واضح رہے کہ یہ جواب اس صورت میں ہے کہ آپ ۷/ شعبان ۱۴۳۷ھ میں بھی صاحب نصاب نہ رہے ہوں اور اگر آپ ۳۷ھ میں ۷یا ۸/ شعبان کو صاحب نصاب تھے اور ۳۸ھ میں بھی ۷یا ۸/ شعبان کو صاحب نصاب تھے تو آپ پر زکاة واجب ہوگی۔(ن)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات