عبادات - زکاة و صدقات

Pakistan

سوال # 156154

میری والدہ کو ان کے والد یعنی میرے نانا نے ایک زمین ہدیہ کی ہے ۔ جو کہ کسی دوسرے شہر میں ہے ۔ ہماری ذاتی رہائش نہیں ہے ، بلکہ میرے والد صاحب کی ایک زمین ہے جو کہ ہمارے اپنے شہر میں ہے ۔ والدہ کی زمین جو کہ کسی دوسرے شہر میں ہے اس کے متعلق یہ طے پایا کہ اس کو بیچ کر والد کی زمین پر مکان تعمیر کیا جائے ۔ جب بروکر حضرات سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس زمین کی قیمت بہت کم ہے لیکن چار پانچ سال بعد بعض وجوہات کی بناء پر اس کی قیمت بہت بڑھ جائے گی۔ اس لیے اسے ابھی مت بیچیں بلکہ جب اس کی قیمت بڑھ جائے گی تب بیچیں اور ہم نے اسی پر عمل کیا ہے ۔
میرا سوال اس زمین کے متعلق ہے کہ کیا اس پلاٹ پر زکوٰة آتی ہے جسے بیچ کر اس کی قیمت سے ذاتی رہائش بنانے کا ارادہ ہو؟

Published on: Dec 12, 2017

جواب # 156154

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:285-251/H=3/1439



جو پلاٹ (زمین) آپ کے نانا نے آپ کی والدہ کو ہدیہ میں دیا ہے اگرچہ آپ لوگوں نے اس کو بیچ کر والد صاحب کی زمین پر مکان بنانے کا ارادہ کرلیا ہے تاہم والدہ کی اس زمین پر زکاة واجب نہیں ہے، ہکذا فی الدر المختار: ۲/ ۱۴۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات