عبادات - زکاة و صدقات

United Arab Emirates

سوال # 155842

حضرت، میں آپ سے قرآن اور حدیث کی روشنی میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ میں یہاں دوبئی میں کام کرتا ہوں، اور یہاں پر میرے ایک جانکار ہیں جو پاکستان سے ہیں اور یہاں میری کمپنی میں مزدور ہیں، ان کی تنخواہ اندازاً 1000 درہم ہوگی، تو کیا میں انہیں بنا بتائے صدقے کے پیسے دے سکتا ہوں جو میں نے قبولا ہوا ہو، کیا یہ صحیح ہوگا؟ کیونکہ 1000 درہم آج کل کے دور میں بہت کم تنخواہ ہے، تو کیا میں ان کو صدقہ دے سکتا ہوں؟

Published on: Nov 2, 2017

جواب # 155842

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 179-148/M=2/1439



صدقہ سے مراد اگر نفلی صدقہ ہے تو اس مزدور کو دے سکتے ہیں، اس میں کوئی مضائقہ نہیں، اور اگر واجبی صدقہ مراد ہے جیسے زکاة، فطرہ وغیرہ تو اسے دینے سے پہلے یہ تحقیق و اطمینان کرلیں کہ وہ مزدور غریب و مستحق ہے یا نہیں؟ اگر وہ صاحب نصاب نہیں ہے اور مستحق زکاة ہے تو اس کو بغیر بتائے بھی دے سکتے ہیں اور اگر وہ صاحب نصاب ہے تو اس کو واجبی صدقہ دینا صحیح نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات