عبادات - زکاة و صدقات

INDIA

سوال # 155839

حضرت، زکات کی رقم ” تشخیص مرض سینٹر “(diagnosis center) میں دینا جائز ہے یانہیں؟ وہاں پر معمولی چارج (nominal charge) لے کر ہندو اور مسلم کا علاج کیا جاتا ہے، اس سینٹر کا مالک مسلم ہے۔ اس پر روشنی ڈالیں ۔ جزاک اللہ خیر۔

Published on: Dec 14, 2017

جواب # 155839

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:160-134/D=3/1439



زکاة کی ادائیگی کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں :(۱) جس کو زکاة دی جارہی ہے وہ زکان کا مستحق اور مسلمان ہو، کافر اور غیرمستحق کو زکاة دینا جائز نہیں ہے۔(۲) زکاة کی رقم فقیر کے قبضہ میں دے کر اس کو مالک بنادیا جائے، چنانچہ مذکورہ دونوں شرطوں کے لحاظ سے زکاة کی رقم ”تشخیص مرض سینٹر“ عمومی صرف (یعنی مسلم وکافر سب پر خرچ کرنے) کے لیے دینا جائز نہیں ہے؛ البتہ اگر زکاة کی رقم ”سینٹر“ میں آنے والے کسی غریب مسلمان مریض کے قبضہ میں دے دی جائے پھر وہ اس سے تشخیص مرض کا چارج ادا کردے تو یہ درست ہے اور اس سے زکاة ادا ہوجائے گی۔ تملک جزء مال عینہ الشارع من مسلم فقیر غیر ہاشمي ولا مولاہ مع قطع المنفعة عن الملک من کل وجہٍ للہ تعالی۔ (تنویر الأبصار: ۳/ ۱۷۱)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات