عبادات - زکاة و صدقات

Pakistan

سوال # 155768

سوال: مسئلہ یہ ہے کہ اکثر ہمارے ملک میں سیلاب آتا رہتا ہے اور بے شمار غریب لوگ اس سے متاثر بھی ہوتے ہیں۔ ایسے میں صاحب ثروت افراد آپس میں چندہ کر کے جس میں غالب رقم زکوة کی ہوتی ہے سے امدادی اشیاء لے کر متاثرہ علاقوں میں جاتے ہیں اور ضرورتمندوں میں بلا تفریق مذہب و عقیدہ تمام اشیاء تقسیم کرتے ہیں۔ سامان وصول کرنے والوں میں کافی ہندو اور عیسائی بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زکوة کی رقم سے خریدا گیا سامان غیر مسلم متاثرین میں تقسیم کرنے سے زکوة دینے والوں کی زکوة ادا ہو جاتی ہے ؟
واضح رہے اتنے بڑے مجمع میں مسلم اور غیر مسلم کو الگ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ دونوں کی ضرورت ایک جیسی ہی ہوتی ہے ۔ برائے مہربانی تفصیل سے جواب دیں۔

Published on: Nov 16, 2017

جواب # 155768

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:149-134/M=2/1439



زکاة کی رقم یا اس سے خریدکردہ سامان غیرمسلم غریب کو دینا جائز نہیں؛ اس لیے اگر لینے والے کی بات معلوم ہے کہ وہ غیرمسلم ہے تو اس کو زکاة نہ دی جائے، اس سے زکاة دینے والوں کی زکاة ادا نہ ہوگی اور جہاں مسلم اور غیرمسلم کے درمیان امتیاز دشوار ہو وہاں احتیاط اسی میں ہے کہ امداد وعطیہ کی رقم تقسیم کی جائے، زکاة نہ دی جائے۔ ہاں اگر دینے والے نے غور وتحقیق کے بعد کسی کو مصرف زکاة سمجھ کر زکاة دیدی (مثلاً غیرمسلم غریب بھی مسلمان غرباء ومتأثرین کی لائن میں مسلم حلیہ میں کھڑا تھا) بعد میں پتہ چلا کہ وہ مسلمان نہیں تھا یا غریب نہیں تھا تب بھی زکاة ادا ہوجائے گی۔ دفع بتحرّ لمن یظنہ مصرفًا - إلی قولہ - وإن بان غناہ أو کونہ ذمیًا أو أنہ أبوہ أو ابنہ أوامرأتہ أو ہاشمي لا یعید (درمختار)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات