عبادات - زکاة و صدقات

Pakistan

سوال # 155767

آج کل کچھ حضرات مختلف محافل میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ زکوة صرف مسلمانوں کو ہی دینا ضروری نہیں بلکہ غیر مسلم کو دینے سے بھی ادا ہوجاتی ہے ۔اس سلسلے میں یہ حضرات مختلف اسکالرز کا حوالہ بھی دیتے ہیں کہ فلانہ اسکالر صاحب بہت قابل ہیں اور دین پہ ان کی بہت ریسرچ بھی ہے لہذا ان کا کہنا یہ ہے کہ زکوة غیر مسلم کو بھی دی جاسکتی ہے اگر وہ بہت غریب ہے ۔ برائے مہربانی اس کا مفصل جواب تحریر کیجئے ۔

Published on: Nov 16, 2017

جواب # 155767

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:148-126/M=2/1439



اس بات پر فقہائے کرام کا اتفاق ہے کہ زکاة، غیرمسلم کو دینا جائز نہیں، ہاں نفلی صدقہ دیا جاسکتا ہے۔ حدیث میں ہے: عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم․․․ فإن ہم أطاعوا لک بذلک فأخبرہم أن اللہ افترض علیہم صدقة توٴخذ من أغنیائہم وترد علی فقرائہم (صحیح البخاری، الزکاة، باب أخذ الصدقة من الأغنیاء، النسخة الہندیة: ۱/ ۲۰۲، رقم: ۱۴۸۴)



درمختار میں ہے: لا تدفع إلی ذمي الخ (درمختار: ۳/ ۳۰۱ط، زکریا دیوبند) ولا یجوز أن یدفع الزکاة إلی ذمي (ہدایہ: ۱/ ۲۰۵، باب من یجوز دفع الصدقات إلیہ ومن لا یجوز․ ط، اشرفیہ دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات