عبادات - زکاة و صدقات

INDIA

سوال # 155438

حضرت مفتی صاحب! زکات اور امداد کی رقم مخصوص چیریٹی سینٹر (Charity Diagnosis center) میں دی گئی ہے جس میں مسلم ، ہندو اور غریب لوگوں کا بہت ہی کم رقم پر علاج کیا جاتا ہے، کیا زکات کی رقم اس طرح کے سینٹر میں دینا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

Published on: Nov 14, 2017

جواب # 155438

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:93-90/N=2/1439



جس سینٹر میں ہندو مسلم اور امیر وغریب ہر قسم کے لوگوں کا یا ہندو ومسلم صرف غریب لوگوں کا کم قیمت پر علاج کیا جاتا ہو یا ان کی مختلف جانچیں ہوتی ہوں، اس میں زکوة کی رقم دینا جائز نہیں، زکوة دینے والوں کی زکوة ادا نہ ہوگی؛ کیوں کہ زکوة کی رقم یا اس سے خرید کردہ چیز کا کسی مستحق زکوة مسلمان کو بلا عوض مالک بنانا ضروری ہوتا ہے، رفاہی اداروں میں یا غیر مسلموں کو زکوة دینا جائز نہیں؛ البتہ اگر کوئی شخص اس طرح کے اداروں کو صرف عطیہ کی رقم دے تو اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں۔



قال اللہ تعالی: إنما الصدقت للفقراء والمساکین الآیة (سورة التوبة: ۶۰)، ولا إلی غني یملک قدر نصاب فارغ عن حاجتہ الأصلیة من أي مال کان الخ،……ولا إلی بنی ھاشم الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب المصرف، ۳: ۲۹۵-۲۹۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، یصرف المزکي إلی کلھم أو إلی بعضھم،…… ویشترط أن یکون الصرف تملیکا، …،لا یصرف إلی بناء نحو مسجد (المصدر السابق،، ص:۲۹۱)، قولہ:”نحو مسجد“:کبناء القناطر والسقایات وإصلاح الطرقات وکري الأنھار والحج والجھاد وکل ما لا تملیک فیہ۔ زیلعي (رد المحتار)، ومثلہ في مجمع الأنھر (کتاب الزکاة، ۱:۳۲۷،۳۲۸، ط:دار الکتب العلمیة، بیروت)، حیث قال:ولاتدفع الزکوة لبناء مسجد؛لأن التملیک شرط فیھا ولم یوجد، وکذا بناء القناطیر وإصلاح الطرقات وکري الأنھار والحج وکل ما لا تملیک فیہ اھ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات