عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 155349

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں ہمارے گاؤں میں ایک دینی مکتب جو حکومت ہند سے درجہ پنجم تک منظورشدہ ہے جس میں تین اساتذہ کی تنخواہ حکومت دیتی ہے اور باقی اساتذہ پرائیویٹ ہیں اور ان کی تنخواہ مدرسہ دیتا ہے اور مدرسے میں مسکین و غیر مسکین سب بچے دینی و عصری تعلیم حاصل کرتے ہیں اور مدرسے میں بچوں کے کھانے اور قیام وغیرہ کا انتظام نہیں ہے بچے چھٹی کے بعد گھر چلے جاتے ہیں تو کیا ایسے مدرسے میں زکوة وغیر کے پیسے لینا اور اسی زکوة کے پیسوں سے اساتذہ کو تنخواہ دینا اور زکوة کے پیسے کو مدرسے کی تعمیر میں لگانا درست ہے یا نہیں؟

Published on: Oct 30, 2017

جواب # 155349

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:76-54/L=2/1439



زکوة کے مصارف فقراء مساکین وغیر ہیں جن پر زکوة کی رقم تملیکاً خرچ کرنا ضروری ہے،اس لیے اگر اس مکتب ایسے بچے نہیں ہیں جن پر زکوة کی رقم خرچ کی جاسکے تو ایسے مدرسے والوں کے لیے زکوة کی رقم لینا اور اس کو اساتذہ کی تنخواہوں یا تعمیرِ مدرسہ میں لگانا جائز نہیں۔ قال اللہ تعالی: إنما الصدقت للفقراء والمساکین الآیة (سورہ توبہ آیت: ۶۰) وفی الدرالمختار: یصرف إلی کلہم أو إلی بعضہم تملیکا لا إلی بناء مسجد وکفن میت وقضاء دینہ (تنویر الأبصار مع رد المحتار: ۳/ ۲۹۱، کتاب الزکاة باب المصرف)



 وفي مجمع الأنھر: ولاتدفع الزکوة لبناء مسجد؛ لأن التملیک شرط فیھا ولم یوجد، وکذا بناء القناطیر وإصلاح الطرقات وکري الأنھار والحج وکل ما لا تملیک فیہ اھ۔ (مجمع الأنھر: ۱/ ۳۲۷، ۳۲۸ط: دار الکتب العلمیة، بیروت)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات