عبادات - زکاة و صدقات

india

سوال # 147584

کیا عربی مدارس میں مالدار طلبا کا بغیر کسی تعلیم فیس ادا کئے پڑھنا درست ہے ؟کیا جبکہ مدارس میں اساتذہ کو تعلیم کی تنخواہ چندہ وغیرہ وصول کرکے دی جاتی ہے مدارس میں مالدار طلبا سے صرف خوراکی کی فیس لیجاتی ہے تو کیا تعلیم کی فیس نہیں لی جانی چاہئے ؟

Published on: Jan 4, 2017

جواب # 147584

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 330-299/Sn=4/1438



 



مدارس میں جو کھانا بنتا ہے بالعموم زکاة اور دیگر صدقاتِ واجبہ کی رقوم صرف ہوتی ہیں؛ اس لیے جو طلبہ غنی اور صاحب نصاب ہیں (یعنی اگر وہ بالغ ہیں تو ان کی اپنی ملکیت میں اگر نابالغ ہیں تو ان کے والد کی ملکیت میں قدرِ نصاب مال ہو) ان کے لیے مدّ زکات سے تیار شدہ مدرسے کا کھانا کھانا شرعاً جائز نہیں ہے،رہے تعلیمی وتعمیری اخراجات تو ان میں چوں کہ امداد اور عطیہ کی رقم خرچ کی جاتی ہے نہ کہ زکاة وغیرہ کی؛ کیوں کہ یہ جائز نہیں ہے؛ اس لیے مالدار طلبہ کے لیے بھی مدارس کی تعمیرات اور تعلیم سے فائدہ ا ٹھانا شرعاً جائز ہے، جہاں تک ان سے تعلیمی فیس لینے کی بات ہے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ ہمارے بزرگوں نے طلبہ سے براہ راست فیس لے کر تعلیم دینے کی حوصلہ افزائی نہیں کی؛ بلکہ قوم کے پیسوں سے تعلیم دینے کو ترجیح دی؛ تاکہ طلبہ بھی فارغ ہونے کے بعد ”دینی تعلیم“ کو ”عصری تعلیم“ کی طرح محض ایک ذریعہٴ معاش نہ سمجھیں؛ بلکہ قوم کے احسان مند ہوں اور ایک ”امانت“ سمجھ کر ابنائے قوم کے درمیان اس کی نشر واشاعت کریں؛ البتہ اگر کوئی مدرسہ طلبہ سے تعلیم پر آنے والے ضروری اخراجات بہ شکل فیس وصول کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، شرعاً اس کی گنجائش ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات