عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 146449

ایک محفل میں میں نے عرض کیا کہ بیوی اور بچوں پر ہم جو پیسہ دیتے ہیں وہ صدقہ ہے، کچھ نہیں میرا مزاق اڑایا اور ناموں سے مخاطب کیا، میرا سوال ہے:
(۱) کیا میں صحیح تھا؟
(۲) جو ہم اپنی بیوی بچوں پر خرچ کرتے ہیں کیا یہ بھی صدقہ میں آئے گا؟
(۳) صدقہ کی تشریح فرمادیں تو بڑا احسان ہوگا، ساتھ میں اگر حوالہ بھی دے دیں تو بہتر ہوگا۔

Published on: Nov 28, 2016

جواب # 146449

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 258-200/L=2/1438



اللہ کی رضا کے لیے جو مال خرچ کیا جائے وہ صدقہ ہے؛ اسی اعتبار سے ثواب کی نیت سے اپنے اہل و عیال بیوی بچوں پر خرچ کرنے کو بھی حدیث میں صدقہ فرمایا گیا ہے، آپ نے صحیح کہا تھا لوگوں کا مذاق اڑانا درست نہ تھا۔ بخاری شریف میں عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”إذا أنفق الرجل علی أہلہ یحتسبہا فہو لہ صدقة۔ وفي قواعد الفقہ! الصدقة: محرکة ہی العطیة تبتغی بہا المثوبة من اللہ تعالیٰ۔ (التعریفات الفقہیہ: ۳۴۸)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات