عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 146224

حضرت میر ے دل میں ہروقت خیال آتا ہے کہ صدقہ کر وں اور ہر وقت دماغ میں یہ بات گھوم تارہتا ہے اور جو چیز بھی ہاتھ میں آتی ہے بس دل میں خیال آتا ہے کہ صدقہ کر دوں اور پھر اس کو صدقہ کر دیتا ہوں روزانہ بعض اوقات دل کو ناگوار گزرتے ہیں اور بہت دکھ ہوتا ہے حضرت میر ی رہنمائی فرمائیں اور یہ کہ دل میں خیال انے سے کیا صدقہ واجب ہو جاتا ہے یا یہ مرے خیال کا وہم ہے اور جو خیال آتا ہے کہ صدقہ کر دوں اور پھر میں اس کو صدقہ نہ کروں میری مرضی کیا خیال کے آنے کی وجہ سے اس چیز کو صدقہ کرنا واجب ہے حضرت میر ی رہنمائی فرمائیں اور یہ کہ دل میں خیال آتا ہے کہ صدقہ کر دوں اور پھر میں نہ کروں تو اس چیز کا استعمال کر نا میرے لیے ناجائز ہے اور دل ودماغ سے اس خیال کو کیسے دور کروں؟

Published on: Nov 24, 2016

جواب # 146224

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 194-182/M=2/1438



دل میں صرف صدقہ کرنے کا خیال آنے سے صدقہ واجب نہیں ہوتا، اگر خیال آنے کے بعد صدقہ نہ کریں تو کوئی گناہ نہیں ہوگا اور اس چیز کو اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں لیکن اگر صدقہ کریں تو خوش دلی سے کریں ناگواری محسوس نہ کریں اور محض خیال کی پیروی کو لازم و ضروری نہ سمجھیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات