عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 145737

ہم غریب لوگوں کو راشن ، طبی تعاون ، تعلیمی مدد فراہم کرنے کے لئے ایک اتنظیم چلاتے ہیں اور غریبوں اور محتاجوں کی مدد کے لیے ہم اپنے ممبران سے زکاة اکٹھا کرتے ہیں، ہمارے پاس جو غریب آتے ہیں تو شریعت کے مطابق استحاق زکاة کے لیے تصدیق کرتے ہیں اورپھر زکاة کی رقم دیتے ہیں۔ اس سال ہم پیتھولوجی لیب (خون اور پیشاب جانچ) کھولنے کا ارادہ کررہے ہیں ، ٹیسٹ میں ڈھائی سے روپئے لگتے ہیں تو ہم اسی سو روپئے لے سکتے ہیں، آج کل دوائی کی بہت زیادہ مہنگی ہوگئی ہے،اسی کے پیش نظر ہم نے ایک چیریٹبل لیب کھولنے کے بارے میں سوچاہے جہاں ہم کم سے کم ریٹ پر خون اور پیشاب کا ٹیسٹ کرسکتے ہیں، اس سے غریبوں کو مدد ملے گی اور اس سے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ ہمارے پاس زکاة کا فنڈ ہے، تو کیا ہم اس کو مشینوں کی خریدار ی اس رقم سے کرسکتے ہیں؟ہمارے کام پس منظر یہ ہے کہ ہم مارکیٹ ریٹ سے کم ریٹ میں ٹیسٹ کریں گے مثلاً مارکیٹ ریٹ ڈھائی سو روپئے ہیں تو ہم اسی سوروپئے لیں گے تو اس طرح سے تقریباً 150-170روپئے بچیں گے ۔ ہماری تنظیم رجسٹر ڈ ہے اور ہم ممبران اللہ سے ڈر کر بہت سے نیک کاموں میں کررہے ہیں، جیسے کہ ہم رمضان میں اسپتال میں مریضوں کے روشتہ داروں کو سحری فراہم کرتے ہیں، غربیوں کی دوائی اور تعلیم میں مالی مدد کرتے ہیں، کیریئر سازی کے تعلق پرگرام چلارہے ہیں،انٹرویو کی تیاری کا پروگرام چلاتے ہیں، غریبوں کو کپڑے فراہم کرتے ہیں، غریبوں کو ماہانہ راشن دیتے ہیں، اسکالر شپ دیتے ہیں۔ براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Oct 26, 2016

جواب # 145737

بسم الله الرحمن الرحيم

زکوة کی رقم سے مشین کی خریداری کرنا، خون و پیشاب کے ٹیسٹ کی اجرت دینا جائز نہیں، کیریئر سازی کے تعلق سے پروگرام چلانے میں انٹرویو کی تیاری کا پروگرام چلانے میں بھی زکوة کی رقم خرچ کرنا جائز نہیں، غریب مریضوں کو ہاتھ میں دے کر زکوة کی رقم کا اسے مالک بنانا ضروری ہے پھروہ مریض اپنی دوا علاج میں خود اپنے ہاتھوں سے دے اس کے بغیر زکوة دینے والوں کی زکوة ادا نہ ہوگی۔ زکوة کی رقم تنظیم میں نہ لگائیں تو بہتر ہے۔ آپ لوگوں سے امدادی رقم لے کر تنظیم چلائیں کیونکہ زکوة کے مسائل بہت باریک اور نازک ہوتے ہیں غیر عالم انہیں نہیں سمجھ سکتا۔ پھر ہمیں اس کا شریعت نے مکلف بھی نہیں بنایا ہے کہ ہم لوگوں کی زکوة وصول کرکے لوگوں میں تقسیم کریں۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات