عقائد و ایمانیات - ادیان و مذاہب

India

سوال # 51865

میرا سوال یہ ہے کہ ایک لڑکا جس کو عیسائی سے مسلمان ہوئے چودہ سال ہوگئے ہیں، اس نے اسلام کو جان کر اپنی خوشی سے اسلام قبول کیا، نہ شادی کے لیے اور نہ کسی کے دباؤ میں آکر ۔ اب اس کے لیے اپنے بھائی بہن خاص طورسے ماں باپ کے ملنے کا کیا حکم ہے؟کیا وہ اپنے والدین کے ساتھ رہ سکتاہے یا اس کو اپنے ساتھ رکھ سکتاہے اگر ان کی خدمت اسکے دوسری بہن بھائی نہ کرے یا کرے ، دونوں صورتوں میں شریعت کیا حکم دیتی ہے؟مہربانی کرکے رہنمائی فرمائیں، کیوں کہ وہ مسلمان لڑکی سے شادی کرنے والا ہے اور اپنے گھروالوں کی ذمہ داری بھی سمجھتاہے۔

Published on: Apr 2, 2014

جواب # 51865

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 697/697/M=6/1435-U

وہ شخص اپنے غیر مسلم بھائی بہن اور والدین سے ملنے میں ہلاکت وضرر کا اندیشہ محسوس نہیں کرتا ہے تو ملاقات کرنے میں کوئی حرج نہیں، بس اس کا خیال رکھے کہ شرکیہ اور خلافِ شرع امور میں ان کی اطاعت نہ کرے، غیرمسلم والدین کواپنے ساتھ بھی رکھ سکتا ہے اور وہ اپنے والدین کے ساتھ بھی رہ سکتا ہے، اسلام اُن کے ساتھ رواداری ، حسن سلوک اور حسن اخلاق کا معاملہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے، دوسرے بھائی بہن والدین کی خدمت کریں نہ کریں وہ شخص خدمت کرے گا اجر وثواب پائے گا۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات