عقائد و ایمانیات - ادیان و مذاہب

United Arab Emirates

سوال # 2981

ان لوگوں کو کیسے سمجھا یا جائے جو محسوس کر تے ہیں کہ روحانیت مذہب سے بالاتر ہے، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر مذہب میں عالمی صداقت اور عالمگیر محبت کے بنیادی اصول کی تعلیم موجود ہے ، اس لیے صرف اسلام کو ماننا ضروری نہیں۔ صوفیوں، کریایوگی کرنے والوں، اور دوسرے مشہور ہندوستانی غیرمسلم سنتوں کو اپنا پیشوا اور روحانی رہنما مانو؟ براہ کرم، رہ نمائی فرمائیں۔

Published on: Nov 3, 2007

جواب # 2981

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 539/ د= 532/ د


 


اللہ تعالیٰ تمام کائنات کے تنہا خالق مالک رازق ہیں اور وہی یکتا ذات رب کائنات ہے۔ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور دوسری مخلوقات سے جدا رب کائنات کی مرضی اور احکام کے مطابق زندگی گذارنے کو اس کی تخلیق کا مقصد قرار دیا جیسا کہ ارشاد باری: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا نیز وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ والْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ سے ظاہر ہے۔ انسان کے ساتھ حوائج بشریہ بھی ہیں جنھیں اُسے پورا کرنا ہے اور رب کائنات کی مرضی کے مطابق زندگی گذار کر اس کی رضا و قرب بھی حاصل کرنا ہے۔ ان دونوں ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے رب کائنات نے انسان کو عقل و شعور سے نوازکر اسے ارادہ واختیار سے عمل کرنے کی قوت بخشی۔ انسان کی عقل و شعور ارادہ و اختیار کی قوت دوسرے حیوانات کے عقل و شعور ارادہ و اختیار سے بعض لحاظ سے ممتاز و جدا ہونے کے ساتھ ایک بڑا فرق یہ رکھتی ہے کہ حیوانات سے صرف افعال صادر ہوتے ہیں، مثلاً کھانا، پینا، لڑنا بھڑنا، لیکن ان افعال سے کوئی نور یا ظلمت کی کیفیت ان کے اندر نہیں پیدا ہوتی جب کہ انسان سے یہ افعال صادر ہوتے ہیں تو افعال یا اس کے متعلقات کی وجہ سے اس کے قلب میں ظلمت و نور کا اثر بھی پیدا ہوتا ہے اورہرعمل کا اثر اچھے برے ہونے کے اعتبار سے ظلمت ونور کی شکل میں نفس انسانی کے اندر سرایت کرتا جاتا ہے۔ اچھے عمل کو کرنے اور بُرے عمل کو چھوڑنے اور اس کے لیے کیے جانے والے ریاضت و مجاہدہ کی وجہ سے نور کی کیفیت راسخ ہوتی جاتی ہے یہ کیفیت نورانیہ اگر اللہ تعالیٰ سے قریب کرنے والی ہے تو وہ حقیقی اور واقعی روحانیت ہے ورنہ یہ کیفیت صرف وقتی چمک اور شیطانی چکمہ ہے، حقیقی روحانیت نہیں ہے۔ کیونکہ رب کائنات کی مرضی کے مطابق اعمال صالحہ کرنے یا برے اعمال کے ترک میں مجاہدہ و ریاضت سے جو نورانیت پیدا ہوتی ہے اسی کا نام روحانیت ہے۔ رب کائنات سے قریب کرنے والی اس روحانیت کو پیش کرنے بتلانے اور عمل کرکے سکھلانے کے لیے رب کائنات ہردور میں رسول اور نبی کو مبعوث فرماتے رہے ہیں جو روحانیت کااعلیٰ نمونہ ہوتے تھے اور ان کا لایا ہوا طریقہ روحانیت کا صحیح ترین طریقہ ہوتاتھا۔ لیکن انبیائے سابقین کی پوری تعلیمات اور ان کامستند اسوہٴ حیات محفوظ نہیں رہا تو رب کائنات نے ان کے مذاہب کومنسوخ کرکے اس کام کے لیے سب سے اخیر میں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ کی زندگی کا ہرپہلو اور نقش قدم روحانیت کا زینہ ہے ارشاد باری ہے لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہوئی شریعت (مذہب) ہی اصلی روحانیت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ رب کائنات نے اعلان کردیا اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامِ اور مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَهُوَ فِی الآْخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ کوئی غیر مسلم خواہ کریا یوگی ہو یا سنت مہنت جب اپنی مرضی سے کسی عمل کو یا انسانی ذہن کے اختراعی اعمال کو سبب روحانیت سمجھ کر اختیار کرتا ہے اور مجاہدہ و ریاضت کے ذریعہ اس کو پختہ کرتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ ریاضی عمل سے اس کے قلب میں صفائی پیدا ہوجائے اور وہ چمک محسوس کرے مگر چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق اور اس کے بتائے ہوئے اعمال کے ذریعہ نہیں ہے اس لیے حقیقی روحانیت اس سے حاصل نہیں ہوسکتی اور نہ ہی یہ مجاہدہ و ریاضت قرب خداوندی کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔ یہ سراب کو آب سمجھنے کا دھوکہ ہے۔


یہ کہنا کہ روحانیت مذہب سے بالاتر ہے انسان کے خود ساختہ مذہب اوراختراعی طریقہ کے بارے میں تو کہا جاسکتا ہے کہ روحانیت اس خودساختہ مذہب سے بالاتر ہے کیونکہ روحانیت رضائے الٰہی اس کے بتائے ہوئے طریقہ سے حاصل کرنے کا نام ہے۔ لیکن جو شریعت (مذہب) رب کائنات نے نازل کی ہے اور انسانوں کے اختیار کرنے کے لیے جس نمونہ کو پسند کرکے اس نے خود بھیجا ہے اس کے بارے میں نہیں کہاجاسکتا کہ روحانیت اس شریعت (مذہب) سے بالاتر ہے، یہ صریح دھوکہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی شریعت (مذہب) تو عین روحانیت ہے۔


نیز یہ دعویٰ کرنا بھی غلط ہے کہ ہرمذہب میں عالمی صداقت اور محبت کے بنیادی اصول کی تعلیم موجود ہے۔ کیونکہ زندگی میں پیش آنے والی گوناگوں جزئیات میں سے چند ادھوری باتیں بعض مذاہب عالم میں سے چاہے پائی جاتی ہوں مگر وہ بھی کسی نہ کسی آسمانی مذہب کا بچا کچا حصہ ہے۔ لیکن انسان کی پوری زندگی اور اس کے حیات و ممات کو محیط طریقہٴ علم جس میں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے متعلق واضح غیرمبہم تفصیلات نیز عبادات اخلاقیات حقوق العباد کے ہرہرپہلوکی مفصل صاف صاف تعلیمات موجود ہوں۔ کارخانہٴ عالم کے قیام کا منشا اور انسانی زندگی کا مقصد واضح اور صریح طور پر بیان کیا گیا ہو، شعبہ ہائے زندگی کے ہررخ غلط و صحیح کی معروف و منکر کے عنوان سے دو ٹوک نشاندہی کی گئی ہو۔ اسی طرح قیامت کیا ہے؟ اس کا تعلق انسانی زندگی سے کس قسم کا ہے؟ قیامت کا یقین انسانی زندگی پر صلاح و فساد کے اعتبار سے کس درجہ اثر انداز ہے؟ زندگی کے اعمال کا نتیجہ قیامت میں جنت و جہنم کے یقینی تصور کے ساتھ کس طرح ظاہر ہوگا؟ ان سب باتوں کو عقلی دلائل اور نقلی پختگی کے ساتھ مضبوط طریقہ سے آشکارا کیا گیا ہو۔ یہ ساری تفصیلات اور زندگی کا پورا دستور حیات صرف دین اسلام میں موجود ہے رب کائنات نے اس ابدی مذہب کی تعلیمات و اصول خود بیان فرمائے ہیں اور چھوٹی بڑی ہرتعلیم پر یقین اور عمل کو ذریعہٴ نجات اور قرب و رضا کا باعث قرار دیا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا داعی پیغمبر اور نمونہ بنایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ اور سنت کے مطابق جو زندگی ہوگی وہ روحانیت والی زندگی ہوگی جس میں ترک لذات کا بے سود مجاہدہ نہیں ہے بلکہ لذات کو شریعت الٰہیہ کے تابع کرنے کا مجاہدہ ہے۔ بقول صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم احتسب نومتی کما احتسب قومتی یعنی جس طرح میں اپنی نماز کو قرب الٰہی اور ثواب کا ذریعہ سمجھتا ہوں اسی طرح اپنی نیند (سونے) کو جو سنت کے مطابق رضائے الٰہی کے لیے ہو قرب و ثواب کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔ لہٰذا دین اسلام پر عمل ہی روحانیت حاصل کرنے کا طریقہ ہے اور شریعت اسلامیہ عین روحانیت ہے، روحانیت شریعت اسلامیہ سے جدا کوئی چیز نہیں ہے اور نہ کسی دوسرے طریقہ سے حاصل کی جاسکتی ہے جیسے آم کی مٹھاس آم سے جدا کوئی چیز نہیں ہے۔


خلاف پیمبر کسے رہ گزید                         کہ ہرگز بمنزل نہ خواہد رسید


اس سے واضح ہوگیا کہ اختراعی ریاضت و مجاہدہ سے یا اپنی مرضی سے ترک لذات کرکے روحانیت حاصل ہونے کا دعویٰ کرنا نرا دھوکہ ہے۔    ایں خیال است و محال است و جنوں


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات