• عقائد و ایمانیات >> ادیان و مذاہب

    سوال نمبر: 176585

    عنوان: سارے ہوشیار طلبہ کو کسی فعال استاد کی زیر نگرانی دینا

    سوال: ایک ادارے میں ایک مہتمم کا پہلے درجہٴ حفظ کے طلبہ کے متعلق یہ طرز عمل تھا کہ ہوشیار طلبہ کو اپنے اعتبار سے کسی فعال مدرس کی کلاس میں داخل کر دیتے تھے تاکہ بچہ کا وقت ضائع نہ ہو ،اور فعال استاذ اسے کسی نہ کسی طرح کام میں مشغول رکھے۔ امتحان کے موقع پر اس کلاس کا نتیجہ بڑا عمدہ آتا تھا اور دیگر کلاسوں کا کمزور اس وجہ سے سرپرست حضرات ان مدرسوں سے کارگذاری لیتے تھے اور اپنی کلاس کے طلبہ کی کمزوری کی وجوہات دریافت کرتے اور اس فعال استاذ کی مثال دیتے کہ ان کے بچے کیسے پختہ ہیں !،وہ کیسی محنت کرتے ہیں!،آپ لوگ بھی ایسی ہی محنت کرو،اور ایسے بچے تیار کرو۔ ہر امتحان میں یہی صورتحال پیش آنے کی وجہ سے بعض اساتذہ نے مہتمم صاحب کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کی کہ آپ ہوشیار طلبہ ان کے پاس بھیج دیتے ہوں اس لئے ان کا نتیجہ اچھا آتا ہے،دیگر اساتذہ کو کمزور بچے دیتے ہو تو یہ تو خلاف انصاف بات ہوئی۔چنانچہ مہتمم صاحب نے اس کے بعد یہ اصول بنا لیا کہ ہر کلاس میں ذہین ،متوسط وکمزور طلبہ کی تعداد تقریباً یکساں رکھی جائے۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ بعض اساتذہ نسبتاً زیادہ محنتی اور فعال ہوتے ہیں اور بعض کچھ کم ،تو اس اعتبار سے نسبتاً کم محنتی اساتذہ کے پاس جو ہوشیار طلبہ ہیں ان کا نقصان ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ تو کیا اس مہتمم کو اس بات کا اختیار ہوگا کہ وہ پہلے کی طرح محض طلبہ کے فائدے کی غرض سے ہوشیار طلبہ کو فعال اساتذہ کے پاس رکھیں تاکہ استاذ کی فعالیت کے نتیجہ میں طلبہ کا قرآن بھی پکا ہو اور ان کا وقت بھی بچ جائے؟ کیا یہ خلاف انصاف بات تو نہ ہوگی؟

    جواب نمبر: 176585

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 598-110T/L=07/1441

    صورت مسئولہ میں اگر ہوشیار طلبہ کو کسی فعال استاد کے زیر نگرانی دینے میں مدرسہ اور طلبہ کی مصلحت ہو تو مہتمم کے لئے ایسا کرنے میں مضائقہ نہیں، اور یہ دیگر استاتذہ کے ساتھ ناانصافی نہیں؛ البتہ مہتمم کے لئے ایسا کرنا کہ سارے غبی طلبہ ایک مدرس کو دیدے یہ بھی مناسب نہیں، بہتر یہی ہے کہ مخلوط طلبہ ہرمدرس کو دیے جائیں اور مدرس کو اس کا پابند بنایا جائے کہ وہ طلبہ کو حتی الوسع بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں، اگر کوئی مدرس سستی کرتا ہو تو اچھے انداز سے اس کی تنبیہ کی جائے۔

    عن تمیم الدارمي أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم، قال: ”الدین النصیحة“ قلنا: لمن؟ قال: ”للہ ولکتابہ ولرسولہ ولأئمة المسلمین وعامتہم“ رواہ مسلم (۹۵) وفي مجلة الأحکام: التصرف علی الرعیة منوط بالمصلحة ۔ (مجلة الأحکام ص: ۹۴) وفي شرح القواعد الفقہیة: التصرف علی الرعیة منوط بالمصلحة، أي: إن نفاذ تصرف الراعي علی الرعیة ولزومہ علیہم شاوٴوا أو أبوا معلق ومتوقف علی وجود الثمرة والمنفعة في ضمن تصرفہ، دینیة کانت أو دنیویة ۔ فإن تضمن منفعة ما وجب علیہم تنفیذہ، وإلا رد، لأن الراعي ناظر، وتصرفہ حینئذ متردد بین الضرر والعبث وکلاہما لیس من النظر في شيء ۔ والمراد بالراعي: کل من ولي أمرا من أمور العامة، عاما کان کالسلطان الأعظم، أو خاصا کمن دونہ من العمال، فإن نفاذ تصرفات کل منہم علی العامة مترتب علی وجود المنفعة في ضمنہا، لأنہ مأمور من قبل الشارع (صلی اللہ علیہ وسلم) أن یحوطہم بالنصح، ومتوعد من قبلہ علی ترک ذلک بأعظم وعید، ولفظ الحدیث أو معناہ: ”من ولي من أمور الأمة عملا فلم یحطہا بنصح لم یرح رائحة الجنة“ ۔ (شرح القواعد الفقہیة ص: ۳۰۹)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند