India

سوال # 155904

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں،ہمارے قصبہ میں ایک پرانی مسجد قبرستان سے متصل ہے ، مسجد مصلیان کے لیے ناکافی ہے ، ہم چاہتے کہ قبرستان کے کچھ حصے میں مسجد کی توسیع کرکے آسماں وضو خانہ وغیرہ وغیرہ بنوادیں توکیا ازروئے شرع مسجد یاضروریات مسجد کیلئے قبرستان کے کچھ حصہ کو استعمال کرنا درست ہے ؟
واضح رہے کہ قبرستان کا جو حصہ مسجد سے متصل ہے اس میں کسی جنازہ کو دفن نہیں کیا جاتا ہے اور نہ قبر کے نشانات باقی ہیں۔
نوٹ مذکورہ قبرستان ابھی ناکافی ہے ، اس لیے ہم ایک قبرستان کی جگہ خرید رہے ہیں اس لئے مذکورہ قبرستان کو صرف چھوٹے بچوں کے لیے رکھا جائے گا جو کہ بچوں کے ضرورت سے زائد ہو گا۔

Published on: Dec 7, 2017

جواب # 155904

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:132-112/D=3/1439



اگر زمین قبرستان کے لیے وقف ہے، یعنی کسی کی ملک میں نہیں ہے، تو وہ مردوں کو دفن کرنے کے لیے ہی متعین ہے، ایسی زمین کو مسجد کی توسیع کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے، چاہے اس میں فی الحال مردوں کو دفن کیا جاتا ہو یا دفن نہ کیا جاتا ہو، اس لیے کہ وقف جس چیز کے لیے ہوتا ہے اسی کے لیے خاص ہوجاتا ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں قبرستان کی زمین وضوء خانہ وغیرہ بنوانا صحیح نہیں ہوگا۔ شرط الواقف کنص الشارع: أي في المفہوم والدلالة ووجوب العمل بہ․ الدر المختار مع رد المحتار: ۶/۶۵)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات