A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: models/quesans_details.php

Line Number: 93

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Trying to get property of non-object

Filename: models/quesans_details.php

Line Number: 93

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /homepages/36/d162900626/htdocs/darulifta/system/core/Exceptions.php:186)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 689

Darul Ifta, Darul Uloom Deoband India

Saudi Arabia

سوال # 155739

میں پاکستان سے ھلال الدین ہوں اور ریاض ، سعودی عرب میں کام کررہاہوں، اپریل 2015ء میں برطانیہ میں رہ رہی ایک پاکستانی نژاد لڑکی سے میری شادی ہوئی تھی، ہم تقریباً ۲۲ دنوں تک پورے طورپر میاں بیوی کی طرح رہے، اس کے بعد میری بیوی مجھ سے اجازت لے کر اپنے والدین کے ساتھ برطانیہ چلی گئی اور میں سعودی عرب میں چلاآیا، کچھ مہینوں کے بعد بغیر کوئی وجہ بتائے میری بیوی مجھ سے علیحدگی کامطالبہ کرنے لگی، میں نے اب تک اس کو طلاق نہیں دی ہے مگر وہ میرے رابطہ میں نہیں ہے، میں نے اس کی اور اس کے والدین کی خواہش کی بناء پر شادی میں بہت زیادہ پیسے خرچ کئے تھے۔ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں کہ :
(۱ ) کیا میں شادی کے تمام اخراجات بشمول مہر کا مطالبہ کرسکتاہوں اور علیحدگی کا معاملہ کرلوں؟ کیوں کہ علیحدگی کا مطالبہ مکمل طورپر اس کی طرف سے ہے اور غلطی اس کی ہے۔
(۲) اگر وہ دوبارہ اس ازجی زندگی کو شروع کرنے کے لیے راضی ہوجائے تو اس بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔ شکریہ

Published on: Dec 7, 2017

جواب # 155739

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:146-120/d=3/1439



عورت کا بغیر کسی معقول وجہ کے علیحدگی کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں ہے؛ لیکن اکر کچھ نااتفاقی ہوجائے تو زوجین کو شکوہ شکایت دور کرکے اور خوشگوار تعلق قائم کرکے خوشحالی کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے؛ پھر بھی اگر عورت علیحدگی ہی پر مصر ہو تو شوہر مہر کے عوض عورت سے خلع کرسکتا ہے، نیز مہر سے زائد زیورات وغیرہ جو اس نے دیا تھا کا مطالبہ بھی جائز ہے؛ لیکن شرعاً ناپسندیدہ ہے۔



نوٹ: خلع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر عورت سے کہے: کہ ”میں تم سے اتنے مال کے عورض عوض خلع کرتا ہوں“ اور عورت کہے کہ ”میں اس پر راضی ہوں“ تو خلع متحقق ہوجائے گا اور عورت کو ایک طلاق بائن پڑجائے گی اور عدت پوری ہونے کے بعد عورت کو دوسرے کسی شخص سے نکاح کرنے کا اختیار ہوگا۔



وحکمہ: وقوع الطلاق البائن، وإن کان النشوز من قبلہا کرہنا لہ أن یأخذ أکثر مما أعطاہا من المہر، ولیکن مع ذلک یجوز أخذ الزیادة فيالقضاء، کذا في ”غایة البیان“ (ہندیة: ۱/۵۴۸، ط: اتحاد دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات