عقائد و ایمانیات - ادیان و مذاہب

India

سوال # 149513

آج کل اکثر کہا جاتا ہے کہ کافر کو بھی کافر نہ کہو کیا پتا کہ وہ مسلمان ہو جائے ۔ حقیقت کیا ہے ؟

Published on: Apr 23, 2017

جواب # 149513

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 714-735/sn=7/1438



جو لوگ درحقیقت کافر ہیں انھیں اپنی تقریر وتحریر میں کافر لکھنا یا کہنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، سوال میں جو بات آب نے ذکر کی ہے وہ ہمیں نہیں ملی، ہاں فقہاء کی عبارات سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ کسی کافر کو بھی اس کے سامنے گالی کے طور پر کافر کہہ کر خطاب نہ کرنا چاہیے، مستفاد از: وفي القنیة: قال یہودي أو مجوسي یا کافر یأثم إن شق علیہ، ومقتضاہ أن یعزر لارتکابہ الإثم، الدرر، وفي الرد․․․إلا أن یفرق بأن الیہودي مثلاً لا یعتقد في نفسہ أنہ کافر (الدر مع الرد: ۱۲۸/۶، زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات