عقائد و ایمانیات - ادیان و مذاہب

India

سوال # 130974

دفتر میں بہت سے غیر مسلموں کے مذہبی پروگرام ہوتے ہیں، اس میں کھانے کی دعوت بھی ہوتی ہے، سب سے پیسے مانگے جاتے ہیں، اور سبھی ملازمین کو دعوت دی جاتی ہے، کیا مسلمان ایسے پروگرام میں شرکت کر سکتے ہیں؟ کیا ایسا کھانا کھا سکتے ہیں؟ اگر نہیں کرسکتے تو حکمت کے ساتھ کیسے بچا جائے؟ تفصیل کے ساتھ رہنمائی فرمائیے۔

Published on: Nov 6, 2016

جواب # 130974

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 1475-1470/H37=2/1438

غیر مسلموں کے مذہبی پروگرام میں شرکت کرنا جائز نہیں سب سے پیسے مانگ کر جوکھانا تیار کیا جاتا ہے اگر چہ وہ کھانا فی نفسہ حرام تو نہیں مگر بچنا اس کے کھانے سے اچھا ہے اگر چہ یہ پروگرام اور دعوت دفتر کے اوقات میں انجام دی جاتی ہے تو آپ دفتر میں اپنے کام میں مشغول رہا کریں اگر بالفرض وہاں کوئی کام نہ ہوتو دفتر میں بیٹھ کر ہی چپکے چپکے قرآنِ کریم درود شریف پڑھتے رہا کریں استغفار اور ذکر میں منہمک رہا کریں کبھی کبھار روزہ رکھ کر حُسنِ انداز سے معذرت کردیا کریں اور دفتر کے اوقات کے علاوہ میں یہ پروگرام ہوتے ہوں تو اس وقت تو وہاں سے معذرت کرکے چلے آنے میں کچھ مضائقہ ہی نہیں پیسے مانگنے آئیں تو پیسے دے دیا کریں بلکہ حسبِ موقعہ دس بیس روپئے زائد دیدیں تو اس کی بھی گنجائش ہے کھانے کی مجلس میں کبھی کبھار مصلحةً شرکت کرلیں اس میں بھی حرج نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات