Saudi Arabia

سوال # 9897

مجھے یہ پریشانی جب سے پیش آرہی ہے جب سے مجھ پر پردہ واجب ہوا ہے۔ مجھے ماہواری کی تاریخ سے ٹھیک تین یا پھر چار یا پھر پانچ دن پہلے ہی سفیدی خارج ہونے میں حد سے بہت کم سرخی نظر آتی ہے۔ پھر وہی تھوڑے دن کے بعد ماہواری شروع ہوجاتی ہے۔ خون جاری ہونے کی تایخ سے دیکھو تو ساتویں یا آٹھویں دن پھر اسی شکل میں سفیدی کاخروج نظر آتا ہے (بہت کم خون کے ساتھ ایک قطرہ کی شکل میں)۔پھر صاف اخراج پندرہویں یا سولہویں دن نظر آتا ہے۔ ایسی حالت میں میں کیا کروں؟ نمازکب سے چھوڑوں اورکب سے شروع کروں؟ اور کبھی ایساہوتاہے کہ ساتویں دن صفائی نظر آتی ہے لیکن چوبیس یا تیس گھنٹوں کے بعد پھر خون جاری ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں میں جو نماز پڑھ چکی ہوتی ہوں وہ معاف تھیں یا واجب تھیں؟ اورپھر سے چھوڑنا پڑتا ہے مجھے اتنا تومعلوم ہے کہ گیارہویں دن جوخون نظر آتا ہے وہ پاک ہے۔ آ پ صبر کے ساتھ مجھے جواب دیجئے۔ میرے اندر بھی حیا ہے لیکن میں دوسال سے مجبور ہوکر یہ سوال آپ سے کرنے پر مجبور ہوں۔ میں ادھر ادھر سے معلومات کرکے تھک چکی ہوں۔ اور آپ سے ایک بے انتہا تفصیلی جواب چاہتی ہوں۔ مجھے رمضان میں روزوں کی بہت گڑبڑی ہوتی ہے۔ حیا کے خلاف یہ بات سارے گھر والوں کے سامنے آجاتی ہے۔ برائے کرم جواب دینے میں تاخیر نہ کریں کیوں کہ آج بھی مجھے ہلکا سانظر آیا ہے جب کہ میری تاریخ نو کو ہے۔ میں نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں؟ آ پ کی بے انتہا شکر گزار۔اللہ آپ کو جنت میں صحابیوں کا درجہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العلمین

Published on: Jan 25, 2009

جواب # 9897

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 152=109/ ھ


 


اگر آپ کو یہ پریشانی ابتدائے حیض سے ہے تو آپ دس روز حیض کے شمار کرلیں اور بقیہ بیس روز آپ کے طہر کے ایام ہوں گے۔


اور اگر آپ کی اس سے پہلے کوئی عادت تھی تو اس کو واضح کرکے پھر سوال کریں: أما لون الحیض فالسواد حیض بلا خلاف وکذلک الحمرة عندنا، بدائع الصنائع، ۱:۱۵۲۔ وفیہ: وأما الاستمرار المتصل فحکمہ ظاھر وھو أن ینظر إن کانت المرأة مبتدأة فالعشرة من أول ما رأت حیض والعشرون بعد ذلک طھرہا بدائع ۱:۱۶۱۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات