United States of America

سوال # 794

میں آپ کے ایک جواب سے متعلق سوال کرنا چاہتی ہوں۔ وہ سوال ایک لڑکی کے متعلق تھا جو ایک اسلامی مدرسے میں ایسے مرد اساتذہ سے پڑھتی تھی جو اس کو پردہ کے بغیر تعلیم دیتے تھے۔ میں بھی ایک مدرسے میں جاتی ہوں ، وہاں مرد اساتذہ (عالم و مفتی) ہمیں کسی پردے کے بغیر تعلیم دیتے ہیں لیکن ہم طالبات پردہ کرتی ہیں اور نقاب میں ہوتی ہیں۔ بہر حال ہمارے اساتذہ ہم کو نقاب پہننے پر مجبور نہیں کرتے ، بلکہ پردہ کرنے کا مدار خود ہماری ذات پر ہے۔ اگرچہ اساتذہ و طالبات کے درمیان پردہ نہیں ہوتا لیکن اساتذہ و طالبات بیٹھنے میں کافی فاصلہ رکھتے ہیں اور ممکنہ حد تک غض بصر کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ میں دارالعلوم دیوبند کے فضلاء بھی ہیں۔ ہمارا مدرسہ حال ہی میں قائم ہوا ہے ۔ ہمارے اساتذہ کا مقصد یہ ہے کہ عالمہ مدرسہ سے کچھ جماعتیں فارغ ہوجائیں اور آئندہ اس میں داخلہ لینے والی طالبات کو پڑھائیں۔ ہمارے مدرسہ میں عالم اور عالمہ کورس ہے اور دوری پر طلبہ و طالبات کے لیے دو الگ الگ عمارتیں ہیں ۔ جب ہمارے اساتذہ کسی مضمون کو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو پڑھانا چاہتے ہیں تو وہ لڑکوں کی بلڈنگ میں ہی رہتے ہیں اور لڑکیاں آن لائن تعلیم پاتی ہیں۔ اس صورت میں طالبات اور اساتذہ کے مابین رابطہ کم سے کم ہوجاتا ہے۔


 ان تفصیلات کے پیش نظر کیا لڑکیوں کے لیے جائز ہوگا کہ وہ اس مدرسہ میں دینی تعلیم کے حصول کے داخلہ لیں؟ کیا میرے لیے بہتر ہے کہ میں سچی اسلامی تعلیمات سیکھنے کے لیے اس مدرسہ میں داخل ہوں اور مرد اساتذہ سے پڑھوں جو شرعی حدود کو بہتر طریقے پر جانتے ہیں بہ نسبت اس کے کہ غیر اسلامی کالجوں میں جاؤں اور دنیاوی تعلیم پاؤں؟


مجھے آپ کے جواب کا شدت سے انتظار رہے گا۔ جزاکم اللہ خیرا!

Published on: Jun 28, 2007

جواب # 794

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 675/ب=647/ب)


 

بالغہ طالبات کے لیے بلا شرعی پردے کے مرد استاذ سے پڑھنا جائز نہیں۔ مکمل پردہ کے ساتھ پڑھنے کی گنجائش ہے۔ سچی اسلامی تعلیم وہی ہے جس میں اسلامی حدود سے تجاوز نہ کیا جائے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات