Pakistan

سوال # 768

میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شوہر اللہ کے حکم کے مطابق اپنی بیوی سے کہے کہ تم پردہ کرو اور وہ نہ مانے، سات آٹھ مہینے تک اسے سمجھاتا رہے کہ وہ پردہ کرے، پھر بھی وہ نہ مانے تو کیا شوہر اپنی بیوی سے زبردستی پردہ کرواسکتا ہے؟ اور اگر نہیں تو پھر اس کو کیا کرنا چاہیے کہ جس سے اس کی بیوی پردہ کرنے پر راضی ہوجائے؟ یاد رہے کہ وہ ہر طرح زبانی طور پر بیوی کو سمجھا چکا ہے، لیکن وہ مانتی نہیں۔


 والسلام

Published on: Jun 11, 2007

جواب # 768

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 831/هـ=585/هـ)


 


اپنا اور اپنی بیوی کا مزاج نیز گھر یلو نظام ملحوظ رکھ کر کبھی کبھار مناسب مقدار میں زبردستی کا انداز اختیار کرلیا جائے تو گنجائش ہے مگر بہتر یہی ہے کہ حکمت، بصیرت، نرمی و شفقت، سے ہی نصیحت کرتے رہیں۔ اصل یہ ہے کہ انسدادِ گناہ (بے پردگی وغیرہ)کے لیے تزکیئہ باطن کی ضرورت ہے. دل میں اگر خوف و خشیت، تقوی و طہارت پیدا ہوجائے، جنت و جہنم کا استحضار ہو جائے، قبر، حشر، حساب کتاب اور آخرت کی جواب دہی کا احساس ہوجائے تو بڑے بڑے گناہوں کا چھوڑدینا بہت آسان ہوجاتا ہے ورنہ عامة سختی سے اصلاح نہیں ہوتی اگر ہوتی بھی ہے تو عارضی ہوتی ہے۔ بہشتی زیور حیوة المسلمین، فضائل اعمال، جزاء اعمال جیسی کتابوں کا گھر میں سننے سنانے اور مطالعہ کا ماحول بنائیں۔ ان شاء اللہ اس سے فائدہ ہوگا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات