United States of America

سوال # 552

اگر کسی عورت کو رطوبت خارج ہوتی ہو (شہوت کی وجہ سے نہیں، بلکہ عام رطوبت ہو) اور مسلسل خروج بھی نہ ہوتا ہو، وہ چار رکعت نماز بلا اس عذر کے پیش آئے ہوئے پڑھ سکتی ہے۔ کیا اسے ہر نماز کے لیے وضو کرنا ہوگا؟ اگر ہاں، تو اُس صورت میں وہ کیا کرے جب وہ گھر سے باہر ہو اور وضو کرنے کی حالت میں نہ ہو؟ کیوں کہ ہر جگہ اور ہر وقت وضو کرنا ممکن نہیں۔ اس صورت حال میں کیا وہ پہلے کے وضو سے پڑھ سکتی ہے تاکہ اس کی فرض نماز قضا نہ ہو؟ مجھے اس مسئلہ کے متعلق اشتباہ ہے۔ جلد جواب دیں ، شکرگزار ہوں گا۔


جزاکم اللہ!


والسلام

Published on: Jun 2, 2007

جواب # 552

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 279/م=278/م)


 

صورت مذکورہ میں عورت شرعی معذور نہیں، لهٰذا اس کا حکم وہی ہے جو غیر معذورین کا ہے، یعنی جب جب ناپاک رطوبت عورت کے فرج خارج تک پہنچ جائے تب تب اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، اور نماز کے لیے نیا وضو کرنا ہوگا اور جب تک رطوبت باہر نہ آئے اس کا وضو باقی رہے گا اور اس وضو سے جتنی نمازیں چاہے ادا کرسکتی ہے، اگر عورت ایسی جگہ ہو جہاں وضو کرنا ممکن نہ ہو اور جوازِ تیمم کے شرائط موجود ہوں تو تیمم کرکے نماز پڑھے گی، بشرطیکہ پہلا وضو برقرار نہ رہا ہو۔ اور اگر وضو باقی تھا تو تیمم کی ضرورت نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات