India

سوال # 4175

ایک دو سال پہلے اللہ کے فضل و کرم سے ہمار ایک بیٹا پیدا ہو اتھا۔ ہم مزید بچے کی خواہش کررہے ہیں مگر میری بیوی کو حمل نہیں ٹھہر رہا ہے، کیا ہم ایسا طریقہ اپنا سکتے ہیں جس میں تولید کی غرض سے مرد کی منی کو عورت کے رحم میں ڈالا جا تا ہے؟

Published on: Feb 19, 2008

جواب # 4175

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 108/ ل= 109/ ل


 


بچے کی تولید کی غرض سے یہ طریقہ اختیار کرنا بوجوہ چنددرست نہیں۔ (۱) یہ عمل فطرت اور طباع سلیمہ کے خلاف ہے۔  (۲) اگر مشت زنی سے منی حاصل کی جائے تو یہ حرام ہے۔ (۳) اگر ڈاکٹر سے منی داخل کرانے کا عمل کرایا جائے تو ستر نہ ہونے کی وجہ سے حرام ہوگا، کیونکہ ستر عورت فرض ہے عورت کی شرم گاہ (جائے پیشاب) عورت غلیظہ ہے، شرم گاہ کے بالائی حصہ کو بلاوجہ شرعی دوسرے کے لیے دیکھنا جائز نہیں تو اندرونی حصہ کو دیکھنا اور شرم گاہ کو چھونا کس طرح جائز ہوسکتا ہے، نیز شرعاً اضطرار متحقق نہیں کہ اس کی اجازت دی جائے، اگر اولاد کا شوق ہو تو دوسری شادی کرسکتے ہیں۔ جائز صورت ہوتے ہوئے ناجائز طریقہ اختیار کرنا درست نہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات