Pakistan

سوال # 3939

آج کل پاکستان میں کچھ این جی او (ایک تنظیم کا نام) اسقاط حمل کو جائز قرار دے رہی ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟ ان کا کہناہے کہ بچوں میں روح تین یا چارماہ کے بعد پھونکی جاتی ہے ، اس لیے اس سے پہلے یہ حمل اسقاط کرانا جائزہے۔براہ کرم، اس پر روشنی ڈالیں۔

Published on: May 14, 2008

جواب # 3939

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 665/ ب= 554/ ب


 


بلا کسی شرعی مجبوری کے حمل کو گرانا شرعاً جائز نہیں ہے، ہاں اگر عورت بہت زیادہ کمزور یا دائم المریض ہے، حمل کو برداشت نہیں کرسکتی ہے، جان جانے کا خطرہ ہے، تو ایسے خطرناک حالات اور مجبوری میں ڈاکٹروں کی یقین دہانی کے بعد اسقاط حمل کی اجازت ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات